|ناول: لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا| | تبصرہ نگار: قُرسم فاطمہ |
ناول: لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا تحریر: سیّدہ وجیہہ بخاری تبصرہ نگار: قُرسم فاطمہ ” اے مومنو! شیطان کے قدموں پر نہ چلنا اور جو شیطان کے قدموں پر چلے گا تو شیطان تو بے حیائی کی باتیں اور برے کام ہی بتائے گا اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ایک شخص بھی تم میں سے پاک نہ ہوتا مگر جس کو اللہ چاہتا ہے پاک کردیتا ہے اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔“ ( سورہ نور: ۲۱ ) ابتدائیہ: انسان کو فطرتِ سلیمہ پر پیدا کیا گیا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ اس میں خیر و شر کا مادہ رکھ کر جہاں ایک طرف امتحان میں مبتلا کردیا گیا ہے کہ خیر و شر میں سے ایک راہ کا انتخاب کرنا وہیں دوسری طرف تنبیہہ بھی کردی گئی ہے کہ شیطان کے قدموں پر نہ چلنا۔ شیطان تو محض برائی کی راہ پر ہی گامزن کرے گا۔ چونکہ مٹی کی سرشت میں ہر لمحہ تبدیل ہوتے رہنا شامل ہے اس لیے مٹی کا شاہکار انسان بھی کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ کبھی تو خیر کے راستے پر چلنے لگتا ہے اور کبھی شر کی راہ اسے اپنی طرف کھینچنے لگتی ہے۔ یوں تا عمر نفس کے ساتھ حق و باطل کی جنگ چلتی رہتی ہے اور انسان زندگی کے حقائق و تجربات کی بُھٹی...