Posts

|ناول: لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا| | تبصرہ نگار: قُرسم فاطمہ |

Image
  ناول: لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا تحریر: سیّدہ وجیہہ بخاری تبصرہ نگار: قُرسم فاطمہ     ” اے مومنو! شیطان کے قدموں پر نہ چلنا اور جو شیطان کے قدموں پر چلے گا تو شیطان تو بے حیائی کی باتیں اور برے کام ہی بتائے گا اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ایک شخص بھی تم میں سے پاک نہ ہوتا مگر جس کو اللہ چاہتا ہے پاک کردیتا ہے اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔“ ( سورہ نور: ۲۱ ) ابتدائیہ: انسان کو فطرتِ سلیمہ پر پیدا کیا گیا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ اس میں خیر و شر کا مادہ رکھ کر جہاں ایک طرف امتحان میں مبتلا کردیا گیا ہے کہ خیر و شر میں سے ایک راہ کا انتخاب کرنا وہیں دوسری طرف تنبیہہ بھی کردی گئی ہے کہ شیطان کے قدموں پر نہ چلنا۔ شیطان تو محض برائی کی راہ پر ہی گامزن کرے گا۔ چونکہ مٹی کی سرشت میں ہر لمحہ تبدیل ہوتے رہنا شامل ہے اس لیے مٹی کا شاہکار انسان بھی کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ کبھی تو خیر کے راستے پر چلنے لگتا ہے اور کبھی شر کی راہ اسے اپنی طرف کھینچنے لگتی ہے۔ یوں تا عمر نفس کے ساتھ حق و باطل کی جنگ چلتی رہتی ہے اور انسان زندگی کے حقائق و تجربات کی بُھٹی...

|Lessons we learn from the Last Episode of Dil Ruba| |By: Uswah E Fatima|

Image
Drama Serial: Dil Ruba  Written by: Qaisera Hayat Directed by: Ali Hassan  Lessons we learn from the Last Episode of Dil Ruba:   By: Uswah E Fatima  Dil Ruba , the drama who's ending changed the shape of Pakistani Dramas. I hope writers, directors, and producers learn from it. I would like to appreciate the writer Qaisera Hayat who didn't end the story on the same old note where either the woman like Sanam would be left all alone in despair or will be found chopping off her hair in the mental asylum. Change and forgiveness after a long time of mistakes and sins are not just the mere right of a particular gender. Every human deserves the right to start fresh, change, and be forgiven. It's often seen in our dramas that women barely get any second chances but many men do. We humans often forget that if we can change, ask forgiveness and be forgiving. By seeing us, may be people around us can do the same. The drama started on a very interesting note and has ende...
Image
  ناول: تھوڑا سا آسماں تحریر: عمیرہ احمد تبصرہ نگار: قُرسم فاطمہ   ابتدائیہ آسمان وہ عروج ہے جس کو پانے کی خواہش ہر انسان کو مضطرب رکھتی ہے۔ ہر انسان اپنی زندگی میں زمین سے آسماں تک پہنچنے کا سفر کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ آسمان، زمین پر رہنے والوں کے لیے ایسا سائبان ہے جس کی وسعتوں نے ہر شخص کو ڈھانپ رکھا ہے۔ مگر زمین پر رہنے والے اکثر خود سائبان بننے کی خواہش کرنے لگتے ہیں اور آسمان تک پہنچ کر زمین والوں سے ان کے حصے کا ان کا تھوڑا سا آسماں بھی چھین لیتے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ زمین والوں کے لیے ان کا تھوڑا سا آسماں ہی ان کا سارا جہاں ہوتا ہے۔ آسمان تک پہنچنے والے اکثر یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ جو جتنا بلند ہوتا ہے وہ اتنی ہی بلندی سے پاتال میں پھٹک دیا جاتا ہے۔ مگر جو زمین پر رہتے ہیں وہ کبھی مزید نیچے نہیں گرتے، وہ پھر مزید بلند ہی ہوتے ہیں۔ مرکزی خیال عمیرہ احمد کا شمار ایسے مصنفین میں ہوتا ہے جن کے پاس موضوعات کا خزانہ ہوتا ہے۔ اس خزانے سے کبھی روحانیت و مذہب کی نئی راہیں ہموار ہوتی ہیں تو کبھی محبت کی شعائیں پھوٹتی ہیں۔ کبھی معاشرتی برائیوں سے پردہ چاک کیا جاتا...

|اٹھارویں ترمیم پر نظر ثانی اور تبدیلی کا فائدہ کس کو؟| |از قلم افصح اقبال|

Image
اٹھارویں ترمیم پر نظر ثانی اور تبدیلی کا فائدہ کس کو؟ از قلم افصح اقبال پی ٹی آئی کے حکومت میں آنے کے بعد ہر دوسرے دن ہم ملکی سیاست میں ایک نیا بیانہ سنتے ہیں اور ایک نیا رجحان دیکھتے ہیں پچھلے دنوں جو بیانیہ سامنے آیا وہ آئین کی سب سے اہم ترمیم اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کے متعلق ہے۔ 2018 میں جب پاکستان تحریک انصاف برسراقتدار آئی تب بھی اس ترمیم میں تبدیلی کے حوالے سے بازگشت سنائی دی۔ فی الحال اس بیانیہ کے سامنے آنے   کی وجہ درحقیقت کورونا وائرس کے سبب کیے جانے والے لاک ڈاؤن پر صوبوں خاص طور پر حکومت سندھ اور وفاق کے بیچ ہونے والے اختلافات تھے جس نے عوام کو ایک ایسے بحران کی صورت میں بے یقینی کا شکار کیا وفاق یا یوں کہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی معاشی صورتحال کے سبب سخت لاک ڈاؤن کی مخالفت کی سندھ جہاں پاکستان کا معاشی حب کراچی واقع   ہے وہاں وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور ان کی کابینہ نے وزیراعظم کی کسی بھی رائے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے لاک ڈاؤن کیا اور ہنگامی صورتحال بھی نافذ کی۔ سندھ حکومت کے اس اقدام پر وفاق صرف دو لفظ بول کر چپ ہوگیا کیوں کے آئین ...

|اور جو غور طلب بات ہے| |ازقلم صدف گل|

Image
اور جو غور طلب بات ہے ازقلم صدف گل میں نے کبھی کسی مولوی یا عالمِ دین کی سختی سے اتباع نہیں کی۔بس جس کی کسی بات سے کوئی ادراک حاصل ہوا یا کوئی منطق سمجھ لی تو اسی کو ہی سن لیا۔ اسے اب آپ میری دین سے کم وابستگی کہہ لیں یا کچھ اور۔۔۔لیکن   یہ سب بتانے کا مقصد یہ تھا کہ میں کوئی مذہبی انتہاءپسند یا کسی بھی عالمِ دین کی مقتدی نہیں مگر جب مولانا طارق جمیل صاحب اتنی بڑی شخصیت ہو کے ایک لائیو شو میں یہ کہہ رہے تھے کہ فلاں سے میں نے فون پہ معافی مانگی اور فلاں نے میرے کال کو نہیں سنا تو یہ سب بہت ناگوار گزرا اور جب باقاعدہ معافی مانگنے لگے تھے تو ایسا محسوس ہوا جیسے میرے والدین میں سے کوئی   ایسے معافی مانگ رہا ہے اور بلاشبہ دنیا کاسب سے اذیتناک لمحہ ہی یہی ہے جب آپ کے والدین میں سے کسی ایک کی بےعزتی ہورہی ہو یا اُن میں سے کوئی ایک کسی سے آپ کے سامنے معافی مانگ رہا ہو۔ اس معافی کے بعد بھی ان سے جرح ہوتی رہی بلکہ میڈیا کے کچھ لوگوں نے تو باقاعدہ اس معافی میں اپنی فتح کا جشن منایا اور بعد میں بھی کافی کھینچا تانی ہوگئی۔ پس کوئی جھک کے بازی لے گیا تو   کوئی کسی ...

| کورونا وائرس کے بعد کی دنیا ؟| |از قلم: افصح اقبال|

Image
کورونا وائرس کے بعد کی دنیا ؟ از قلم: افصح اقبال دسمبر  2019  کے آخری عشرے میں چین سے کورونا وائرس کے پھیلنے کی اطلاعات آنا شروع ہوئیں اس وبا کا مرکز چین کا شہر ووہان تھا۔ ابتداء میں اسے ایپی ڈیمک یعنی کسی مخصوص علاقے تک محدود رہنے والی وبا تصور کیا گیا تاہم چین کے طبی ماہرین نے عالمی ادارہ صحت کو اس وبا کے لیے خبردار رہنے کا عندیہ ضرور دیا۔ تیرہ جنوری  2020 کو تھائی لینڈ میں اس وبا کا شکار ایک مریض کے سامنے آنے کے سبب دنیا میں افراتفری پھیل گئی کیونکہ چین سے باہر اس وائرس کا یہ کوئی بھی پہلا مریض تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس وائرس نے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور یہ وائرس جلد ہی پینڈیمک کی صورت اختیار کرگیا۔ بالآخر 30 جنوری  2020 کو عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر میں انسانی صحت سے متعلق ایمرجنسی نافذ کردی۔ وہ ممالک جہاں اس وبا کے متعدد مریض سامنے آئے ان میں جاپان،امریکا،جنوبی کوریا،جرمنی،فرانس،ملائیشیا،پاکستان اور وسطی ایشیا کے ممالک بھی شامل ہیں۔ جو ممالک اس وبا سے بری طرح متاثر ہوئے ان میں اٹلی،ایران ،اسپین سرفہرست ہیں جہاں اس وبا کے سبب زیادہ...

|Alif Finale| |Analyzed by Qursam Fatima|

Image
Alif Finale Analyzed by Qursam Fatima "Just above our terror, the stars painted this story  in perfect silver calligraphy. And our souls, too often abused by ignorance,  covered our eyes with mercy." Aberjhani, a well-known poet & historian quoted this above written stanza in his book I made my boy out of poetry. I must say that his words are well relatable with our highly proclaimed writer, Umera Ahmed who always scented our soul with her words. -Appreciation I'm starting my last review of Alif from the exact words which was written in my very first review. I once again claim, Alif was not just a drama, it was enigma. It was truly a masterpiece and every single person associated with this dream project proved it wholeheartedly. A serial having spiritual storyline, brilliant direction, appealing productions and show-stealing actors, surely lives forever in the hearts of viewers. -Plot Alif was a story of two periods. From Abdul Aa...