ناول: تھوڑا سا آسماں

تحریر: عمیرہ احمد

تبصرہ نگار: قُرسم فاطمہ




 

ابتدائیہ

آسمان وہ عروج ہے جس کو پانے کی خواہش ہر انسان کو مضطرب رکھتی ہے۔ ہر انسان اپنی زندگی میں زمین سے آسماں تک پہنچنے کا سفر کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ آسمان، زمین پر رہنے والوں کے لیے ایسا سائبان ہے جس کی وسعتوں نے ہر شخص کو ڈھانپ رکھا ہے۔ مگر زمین پر رہنے والے اکثر خود سائبان بننے کی خواہش کرنے لگتے ہیں اور آسمان تک پہنچ کر زمین والوں سے ان کے حصے کا ان کا تھوڑا سا آسماں بھی چھین لیتے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ زمین والوں کے لیے ان کا تھوڑا سا آسماں ہی ان کا سارا جہاں ہوتا ہے۔ آسمان تک پہنچنے والے اکثر یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ جو جتنا بلند ہوتا ہے وہ اتنی ہی بلندی سے پاتال میں پھٹک دیا جاتا ہے۔ مگر جو زمین پر رہتے ہیں وہ کبھی مزید نیچے نہیں گرتے، وہ پھر مزید بلند ہی ہوتے ہیں۔

مرکزی خیال

عمیرہ احمد کا شمار ایسے مصنفین میں ہوتا ہے جن کے پاس موضوعات کا خزانہ ہوتا ہے۔ اس خزانے سے کبھی روحانیت و مذہب کی نئی راہیں ہموار ہوتی ہیں تو کبھی محبت کی شعائیں پھوٹتی ہیں۔ کبھی معاشرتی برائیوں سے پردہ چاک کیا جاتا ہے تو کبھی انسانوں کے مختلف روپ سامنے آتے ہیں۔

تھوڑا سا آسماں عمیرہ احمد کی ایسی تحریر ہے جس میں معاشرے کے ہر طبقے کی کہانی ہے۔ اس کہانی میں امیر سے امیر تر اور غریب سے غریب تر بھی آپ کو اپنا تعارف کروائے گا۔ ہر شخص کی کہانی اپنی طرز میں بے حد مختلف ہے مگر تمام کردار مسلسل محوِ تلاش نظر آئیں گے۔ کچھ کردار دولت کے پیچھے بھاگتے نظر آئیں گے اور کچھ کردار اپنی اور اپنے سے جڑی تمام زندگیاں نفسانی خواہشات کی بھینٹ چڑھادیں گے۔ کہانی کے تمام کردار آسمان تک رسائی حاصل کرنے کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے اور آسمان تک پہنچنے کے لیے مختلف سمتوں کا چناؤ کریں گے۔ یہ کہانی کسی ایک کردار کی نہیں ہے اور نہ ہی عام روایتی کہانیوں کی طرح ہیرو ہیروئین کے گرد گھومتی ہے نہ مثبت کرداروں کے۔ اس کہانی میں منفی کرداروں کا ایک ڈھیر ہے اور اس ڈھیر میں کسی ایک نہ ایک چہرے پر آپ کو اپنا عکس ضرور دکھائی دے گا۔



کرداروں کا تعارف

کہانی کے مرکزی کرداروں میں سرِ فہرست "منصور علی" کا کردار ہے جو اپنے خاندان کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزارتا نظر آئے گا۔ منصور کا کردار یہ سوچنے پر مجبور کردے گا کہ کیا "مرد" کے لیے گھر توڑنا اتنا آسان ہوتا ہے؟ مرد گھر کیوں برباد کرتا ہے؟ کیا دوسروں کے بہکاوے میں آکر یا پھر اپنی کمزوریوں کی وجہ سے؟ دوسری شادی اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے کی جاتی ہے یا پھر اپنی پہلی زندگی سے تنگ آکر؟ ایسے اقدام اٹھاتے وقت کیا مرد یہ سوچتا ہے کہ اس کے ایک غلط قدم کے بعد اس سے جڑے تمام افراد کس حال میں پہنچ جاتے ہیں؟ یا پھر خوبصورت جوان عورت سے "طوفانی محبت" معاشرے کے مضبوط اور سمجھدار مردوں کی عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے؟ یہ پردہ منصور علی جیسے ہزاروں مردوں کی عقل پر ایسا پڑتا ہے کہ انہیں پھر نہ اپنی گھر بسانے والی منیزہ جیسی بیوی نظر آتی ہے نہ امبر اور صبغہ جیسی جوان ہوتی اولاد۔

ہم اپنی زندگیوں میں کبھی نہ کبھی "فاطمہ" جیسے کرداروں سے ضرور ملتے ہیں جن کی زندگی میں مایوسی کے اندھیروں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ جن کو دیکھ کر انسان بے ساختہ سوچتا ہے کہ اللہ ایسے انسان کیوں پیدا کرتا ہے؟ ان کی دنیا میں کیا ضرورت تھی؟ مگر کبھی ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ معاشرہ ایسے ہزاروں نامکمل انسانوں کے ساتھ برا سلوک کیوں کرتا ہے؟ اللہ جب تمام انسانوں کو برابری کی سطح پر پیدا کرتا ہے تو ہم ان میں تفریق کیوں کرتے ہیں؟ ہم دوسرے انسانوں سے ان کا "تھوڑا سا آسماں" کیوں چھین لیتے ہیں؟ زندگی میں فاطمہ جیسے ہزاروں کرداروں میں سے اگر آپ کسی ایک سے بھی ملیں تو انہیں زندگی میں روشنی ڈھونڈنا سکھائیں۔ ربیعہ مراد بن کر اُن کو کسی خاص مقصد کے لیے جینا سکھائیں۔ معاشرے سے دھتکارے ہوئے انسان بے مقصد پیدا نہیں کیے جاتے، ایسے لوگ کبھی نہ کبھی کوڑے اور یتیم خانوں کے ڈھیر میں دھتکارے جانے والے ہزاروں شہیر، ثمر اور ثانیہ جیسے معصوم بچوں کا سہارا بھی بن جاتے ہیں۔ فاطمہ کی کہانی حقارت و ترس سے شروع ہوکر فخر اور اُمید پر ختم ہوتی ہے۔

نظریات کی جنگ کبھی انسان کی سوچ بدلتی ہے اور کبھی زندگی۔اگر انسان کی سوچ باغی ہوجائے تو وہ کبھی بھی زندگی کو ایک دائرے کے اندر نہیں گزار سکتا۔ باغی کردینے والا نظریہ انسان کو اس دائرے سے باہر آنے کے لیے ہر مشکل سے مشکل قدم اٹھانے پر بھی مجبور کردیتا ہے۔ اور پھر مذہبی و شرعی حدود پار کرنی پڑیں یا معاشرتی و ثقافتی، انسان پرواہ نہیں کرتا بس اپنے باغی پروں کے سنگ اڑنے لگتا ہے، شائستہ کمال کی طرح! آزادی کی خاطر ہر حد پار کرنے والی شائستہ کمال نے یہ سبق دیا کہ جو انسان اپنی بنیادی جڑوں سے بغاوت کرتا ہے وہ اس دنیا کا کامیاب ترین انسان تو بن سکتا ہے مگر اپنے اندر کی دنیا کبھی آباد نہیں کرسکتا۔

غربت انسان سے ہر کام کرواسکتی ہے۔ بھوک ایسی بیماری ہے جس کا علاج کرنے نکلا جائے تو انسان، انسان نہیں رہتا۔ سب سے پہلے وہ اپنے ضمیر کا خون کرتا ہے پھر ہر اس فرد کا جو اس علاج کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ طویل مشقت کے بعد دولت کے انبار اکٹھے کرکے آسمان تک پہنچنے والا انسان پہلے آسمان پر رہنے والوں کو پاتال میں پھینکتا ہے پھر ایک نہ ایک دن قسمت کے ہاتھوں وہ خود بھی زمین پر ضرور پھٹک دیا جاتا ہے۔ دولت بھوک تو مٹادیتی ہے مگر پھر بھوکا رہنے والے انسان کہیں غائب ہوجاتا ہے۔

رخشی  نے بھی غربت مٹانے کے لیے ہر حد پار کی۔ دولت کی منزل تک پہنچنے کے لیے کبھی امبر کو مسافر بنایا تو کبھی منصور علی کو۔

زندگی میں اکثر ہم کچھ انسانوں کو بالکل بھی اہمیت نہیں دیتے اور کچھ انسانوں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ مگر وقت ایسا بادشاہ ہے جو لمحوں میں تقدیریں بدل دیتا ہے۔ ثانوی انسان کبھی کبھار سائبان بن جاتے ہیں اور جس انسان کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے وہ پھر صرف خود غرض ہی ہوسکتا ہے جس کو اپنی خوشی کے علاوہ کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ امبر اور صبغہ بھی ایسے ہی دو کردار ہیں، امبر مرکزی کردار جبکہ صبغہ ثانوی! مجھے ذاتی طور پر پوری کہانی میں "صبغہ منصور" کا کردار سب سے زیادہ پسند آیا۔ صبغہ وہ مضبوط کردار ہے جس نے زندگی میں ہمیشہ دوسروں کے لیے سوچا۔ صبغہ نے سکھایا کہ مشکل وقت میں جذباتی ہوئے بغیر حالات کو کس طرح سنبھالا جاتا ہے۔ بُرے وقت میں برائی لانے والوں کو کوسنے کی بجائے زندگی کو ایک نئے رُخ پر کس طرح شروع کیا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں "امبر" نے ہر معاملے میں خودسری کا مظاہرہ کیا۔ جس حد تک وہ خوبصورت تھی اس سے زیادہ شاید وہ بیوقوف تھی۔ جو انسان دوسروں کو پرکھنا نہیں سیکھتا وہ پھر ایک نہ ایک دن اپنی جان سے ہی جاتا ہے، امبر منصور علی کی طرح!

-کچھ لوگوں کی زندگی کا محور و مقصد صرف اور صرف "پیسہ" ہوتا ہے۔ ایسے لوگ دنیا کی ہر قیمتی شے اور ہر انسان پیسے سے خرید کر اپنی انا کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے نزدیک کاغذ کے ان ٹکڑوں کا انبار لگانا زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ہوتا ہے۔ ایسے لوگ پیسے کو ہتھیار کی طرح استعمال کرکے دوسروں کا تھوڑا سا آسمان بھی چھین لیتے ہیں اور سائبان بن کر دوسروں کی زندگیوں پر حکمرانی کرنے لگتے ہیں، "ہارون کمال" کی طرح، جس کے لیے نہ کوئی جذبہ اہم تھا نہ رشتہ۔ ہارون کمال درحقیقت اس کہانی کا مرکزی کردار تھاجس کے ہاتھ میں تمام کرداروں کی زندگیوں کی ڈور تھی اور وہ آسمان پر بیٹھ کر تمام کرداروں کی ڈور اپنی مرضی سے گھماتا رہا۔ مگر وہ یہ بھول گیا تھا کہ جو لوگ دوسروں کا تھوڑا سا آسماں بھی چھین لینے کے عادی ہوں، زندگی انہیں آسمان تک تو پہنچادیتی ہے مگر عروج کی بلندیوں پر ٹھہراؤ کبھی بھی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ انسان کبھی نہ کبھی آسمان سے ضرور پھینک دیا جاتا ہے اور ایسے انسان کو پھر کبھی بھی کوئی بھی سہارا نہیں دیتا۔

حرف آخر

کہانیاں اور زندگیاں ختم ہوجاتی ہیں مگر تھوڑا سا آسمان تلاش کرنے کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ تلاش کے اس سفر میں انسان کبھی زوال کی پستیوں میں دھکیل دیا جاتا ہے تو کبھی عروج کے آسمانوں پر محوِ پرواز رہتا ہے مگر تلاش ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ چہرے اور کہانیاں بدلتی رہتی ہیں، تھوڑا سا آسماں تلاش کرنے کی جنگ کبھی ختم نہیں ہوتی۔

-ختم شُد

Comments

Popular posts from this blog

|Drama Review by Qursam Fatima||Kahin Deep Jalay|| An overview of 11 episodes|

|Jo Tu Chahay| |An Overview of 17 episodes| |Review by Qursam Fatima|

|News Review by Quratulain| |Student Union|