Posts

Showing posts from May, 2020

|اٹھارویں ترمیم پر نظر ثانی اور تبدیلی کا فائدہ کس کو؟| |از قلم افصح اقبال|

Image
اٹھارویں ترمیم پر نظر ثانی اور تبدیلی کا فائدہ کس کو؟ از قلم افصح اقبال پی ٹی آئی کے حکومت میں آنے کے بعد ہر دوسرے دن ہم ملکی سیاست میں ایک نیا بیانہ سنتے ہیں اور ایک نیا رجحان دیکھتے ہیں پچھلے دنوں جو بیانیہ سامنے آیا وہ آئین کی سب سے اہم ترمیم اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کے متعلق ہے۔ 2018 میں جب پاکستان تحریک انصاف برسراقتدار آئی تب بھی اس ترمیم میں تبدیلی کے حوالے سے بازگشت سنائی دی۔ فی الحال اس بیانیہ کے سامنے آنے   کی وجہ درحقیقت کورونا وائرس کے سبب کیے جانے والے لاک ڈاؤن پر صوبوں خاص طور پر حکومت سندھ اور وفاق کے بیچ ہونے والے اختلافات تھے جس نے عوام کو ایک ایسے بحران کی صورت میں بے یقینی کا شکار کیا وفاق یا یوں کہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی معاشی صورتحال کے سبب سخت لاک ڈاؤن کی مخالفت کی سندھ جہاں پاکستان کا معاشی حب کراچی واقع   ہے وہاں وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور ان کی کابینہ نے وزیراعظم کی کسی بھی رائے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے لاک ڈاؤن کیا اور ہنگامی صورتحال بھی نافذ کی۔ سندھ حکومت کے اس اقدام پر وفاق صرف دو لفظ بول کر چپ ہوگیا کیوں کے آئین ...

|اور جو غور طلب بات ہے| |ازقلم صدف گل|

Image
اور جو غور طلب بات ہے ازقلم صدف گل میں نے کبھی کسی مولوی یا عالمِ دین کی سختی سے اتباع نہیں کی۔بس جس کی کسی بات سے کوئی ادراک حاصل ہوا یا کوئی منطق سمجھ لی تو اسی کو ہی سن لیا۔ اسے اب آپ میری دین سے کم وابستگی کہہ لیں یا کچھ اور۔۔۔لیکن   یہ سب بتانے کا مقصد یہ تھا کہ میں کوئی مذہبی انتہاءپسند یا کسی بھی عالمِ دین کی مقتدی نہیں مگر جب مولانا طارق جمیل صاحب اتنی بڑی شخصیت ہو کے ایک لائیو شو میں یہ کہہ رہے تھے کہ فلاں سے میں نے فون پہ معافی مانگی اور فلاں نے میرے کال کو نہیں سنا تو یہ سب بہت ناگوار گزرا اور جب باقاعدہ معافی مانگنے لگے تھے تو ایسا محسوس ہوا جیسے میرے والدین میں سے کوئی   ایسے معافی مانگ رہا ہے اور بلاشبہ دنیا کاسب سے اذیتناک لمحہ ہی یہی ہے جب آپ کے والدین میں سے کسی ایک کی بےعزتی ہورہی ہو یا اُن میں سے کوئی ایک کسی سے آپ کے سامنے معافی مانگ رہا ہو۔ اس معافی کے بعد بھی ان سے جرح ہوتی رہی بلکہ میڈیا کے کچھ لوگوں نے تو باقاعدہ اس معافی میں اپنی فتح کا جشن منایا اور بعد میں بھی کافی کھینچا تانی ہوگئی۔ پس کوئی جھک کے بازی لے گیا تو   کوئی کسی ...