|اٹھارویں ترمیم پر نظر ثانی اور تبدیلی کا فائدہ کس کو؟| |از قلم افصح اقبال|



اٹھارویں ترمیم پر نظر ثانی اور تبدیلی کا فائدہ کس کو؟


از قلم افصح اقبال


پی ٹی آئی کے حکومت میں آنے کے بعد ہر دوسرے دن ہم ملکی سیاست میں ایک نیا بیانہ سنتے ہیں اور ایک نیا رجحان دیکھتے ہیں پچھلے دنوں جو بیانیہ سامنے آیا وہ آئین کی سب سے اہم ترمیم اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کے متعلق ہے۔ 2018 میں جب پاکستان تحریک انصاف برسراقتدار آئی تب بھی اس ترمیم میں تبدیلی کے حوالے سے بازگشت سنائی دی۔ فی الحال اس بیانیہ کے سامنے آنے  کی وجہ درحقیقت کورونا وائرس کے سبب کیے جانے والے لاک ڈاؤن پر صوبوں خاص طور پر حکومت سندھ اور وفاق کے بیچ ہونے والے اختلافات تھے جس نے عوام کو ایک ایسے بحران کی صورت میں بے یقینی کا شکار کیا وفاق یا یوں کہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی معاشی صورتحال کے سبب سخت لاک ڈاؤن کی مخالفت کی سندھ جہاں پاکستان کا معاشی حب کراچی واقع  ہے وہاں وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور ان کی کابینہ نے وزیراعظم کی کسی بھی رائے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے لاک ڈاؤن کیا اور ہنگامی صورتحال بھی نافذ کی۔ سندھ حکومت کے اس اقدام پر وفاق صرف دو لفظ بول کر چپ ہوگیا کیوں کے آئین کی رو سے یہ کوئی غیر قانونی اقدام نہ تھا۔ آئین کے تحت صوبے اس معاملے میں خود مختار ہیں۔ یہاں بات آتی ہے آٹھارویں ترمیم کی، جس کے تحت صوبوں کو دوسرے درجنوں اختیارات کے ساتھ صوبائی حکومت کو یہ اختیار بھی دیا گیا کہ وہ صوبہ میں حالات کے پیش نظر ہنگامی صورتحال نافذ کرنے کی اہل ہوگی۔ وفاق اس وقت تو سندھ حکومت کے اقدامات پر لفظی مذمت کرتا رہا لیکن اب اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کی صورت میں ان اقدامات کا جواب بھی دینا چاہتا ہے؟ فی الحال اس ترمیم میں تبدیلی کا عندیہ دینے کی ایک یہی وجہ سمجھ آتی ہے۔
دوسری وجہ این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم ہے جس کا ذکر ہم آگے تفصیل سے کریں گے۔
ایک طرف اس ترمیم میں تبدیلی اور نظر ثانی کے حوالے سے دیے گئے عندیہ پر پاکستان تحریک انصاف کو اپوزیشن کے بیشتر حلقوں سے مذمت کا سامنا ہے جس میں سر فہرست پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی پرزور کانفرنس ہے اس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ” وہ جو نئے پاکستان کی بات کرتے ہیں انہیں سب سے پہلے پرانے پاکستان کے بنیادی نظریوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔“
دوسری طرف سیاسی اور صحافتی حلقوں کےمطابق اس ترمیم میں کورونا وائرس کے بحران کے بعد تبدیلی یا نظر ثانی کے امکانات روشن ہیں حالانکہ آئین میں اس طرح کی ترمیم کے لیے پی ٹی آئ کو پارلیمنٹ میں حاصل اکثریت نا کافی ہے لیکن یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں موجود کچھ لوگ اس ترمیم کے حوالے سے تحفظات کا شکار ہیں اور وہ ایسی صورتحال میں پارٹی کے موقف کے بجائے خاموشی سے حکومتی موقف کی حمایت بھی کرسکتے ہیں۔
یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ 2013 میں ن لیگ کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیر پیٹرولیم کی جانب سے اس ترمیم کے حوالے سے صوبوں کے درمیان گیس شیئرنگ فارمولے پر نظر ثانی کی بات کی گئی تھی جس پر انہیں پاکستان تحریک انصاف جو کہ اس وقت اپوزیشن کی سیٹوں پر موجود تھی اس کی جانب سے شدید مذمت کا سامنا کرنا پڑا تھا آج کے موجودہ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے اس وقت یہ موقف اختیار کیا کہ "ہم ہر اس اقدام کی مخالفت کریں گے جو اٹھارویں ترمیم میں مداخلت کرے " ساتھ میں انکا ایک موقف یہ بھی تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے ملک ایوب خان کے دور میں واپس جاسکتا ہے جب ون یونٹ نظام رائج تھا۔ اور اب پاکستان تحریک انصاف اسی ترمیم پر نظر ثانی اور بیشتر تبدیلیوں کی حامی نظر آتی ہے یہ کہنا مناسب ہوگا کہ رنگ بدلتا ہے آسمان کیسے کیسے یا یہ کہ وقت کے ساتھ ساتھ سیاسی پارٹیوں کے رجحانات اور موقف تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
اگر اٹھارویں ترمیم میں واقعی تبدیلی ہونے جارہی ہے اور وفاق اس معاملے میں سنجیدہ ہے تو یہاں دو سوالات اٹھتے ہیں وفاق اٹھارویں ترمیم کی کونسی شقوں میں تبدیلی چاہتا ہے؟ اس ترمیم میں متوقع تبدیلیوں کا فائدہ کس کو ہوگا؟  ان دونوں سوالات کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ہمیں اس ترمیم کی صوبائی خود مختاری کی شقوں اور اس کے پس منظر کا جائزہ لینا ہوگا۔
2007  میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک عوامی جلسہ کے موقع پر شہید کیا گیا۔ 2008 میں عام انتخابات منعقد ہوئے جس کے نتیجے میں پاکستان پیپلزپارٹی نمایاں اکثریت سے کامیاب ہوکر اقتدار میں آئی۔  صدر آصف علی زرداری صدر کے عہدے پر فائز ہوئے جبکہ یوسف رضا گیلانی وزیراعظم منتخب ہوئے۔ اس ترمیم پر کام شروع کیا گیا 26 ارکان پر مشتمل کمیٹی نے نو ماہ دس روز 77 اجلاسوں میں اس ترمیم کا مسودہ تیار کیا۔ بالا آخر مورخہ 8 اپریل 2010 کو قومی اسمبلی نے اس بل کو منظور کرلیا اس ترمیم کے زریعے آئین کی سو سے زائد آرٹیکلز میں تبدیلی کی گئ جس میں مشہور زمانہ آرٹیکل چھ بھی شامل تھا۔ اس ترمیم کا سب سے اہم پہلو صوبوں کے اختیارات میں اضافہ اور این ایف سی ایوارڈ تھا۔ صوبوں کو دیے جانے والے اختیارات میں بجلی کی پیداوار ، تعلیم کا شعبہ، سوئ گیس کا محکمہ صوبائی قرضہ جات اور ہنگامی صورتحال سے متعلق فیصلوں اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے اختیارات شامل ہیں اس ترمیم کے تحت صوبائی حکومتیں اس بات کی پابند قرار پائیں کہ وہ اپنے اختیارات بلدیاتی سطح پر بھی تقسیم اور منتقل کریں گی۔
اس ترمیم کے منظور ہونے اور صوبوں کے خود مختار ہونے کے بعد عوام کو کتنا فائدہ ہوا اس کا اندازہ لگانے کے لیے ہم پنجاب کا رخ کریں تو وہاں ہمیں بڑی تعداد میں ترقیاتی کام ہوتے نظر آئے لیکن ساتھ ہی ساتھ بہت سے منصوبوں سے متعلق کرپشن اسکینڈل بھی سامنے آئے بلوچستان میں عوام دہشت گردی کے مسائل کے سبب معمولات زندگی میں دوسرے صوبوں سے پیچھے رہے خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے نمایاں کام ہوتا دکھائی دیا۔  جبکہ سندھ جہاں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے جو خود صوبائی خود مختاری کی سب سے بڑی حامی ہے وہاں تعلیمی شعبہ سے لے کر صحت کے شعبے تک کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اس تمام صورتحال پر وفاق صوبوں سے سوال کرے تو صوبائی خود مختاری آڑے آجاتی ہے اور عوام اس کشمکش کا شکار ہوجاتے ہیں کہ وہ اپنے مسائل کی فریاد کس سے کریں۔ غرض یہ کہ اس آٹھارویں ترمیم کے ذریعے وفاق کو صوبوں کے معاملہ میں بلکل کمزور اور بے اختیار کردیا گیا ۔
صوبوں کی زبوں حالی اور اس معاملہ میں وفاق کی بے بسی دیکھ کر اس بات کا اندازہ باخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اس ترمیم کی کچھ شقیں اس وقت حکومت میں موجود نمائندگان کے سراسر ذاتی مفاد پر مبنی تھیں۔ اب امکان ہے کہ پی ٹی آئ انہی شقوں پر نظر ثانی یا تبدیلی کرے گی ۔ 

 ان میں سے ایک شق آرٹیکل 160 کی ہے جس میں نیشنل فائننس کمیشن کا عملی ڈھانچہ موجود ہے اس کمیشن کے تحت وفاق ملک بھر سے جمع ہونے والے محصول صوبوں کے درمیان ہر پانچ سال بعد تقسیم کرنے کا پابند ہے۔ 
 یہاں بھی وفاق سمیت صوبوں کو مسائل درپیش ہیں وفاق کو محصول اور وسائل کا آدھے سے زائد حصہ صوبوں میں تقسیم کرنا پڑتا ہے جسکی وجہ سے وفاق کو اپنے اخرجات اور دوسرے سرکاری منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے وسائل کم پڑجاتے ہیں اور اوپر سے یہ کہ وہ پیسہ صوبوں کی عوام پر صحیح طور خرچ بھی نہ ہورہا ہو۔
دوسرا اس ایوارڈ کے حوالے سے صوبوں میں وسائل کی تقسیم ایک دشوار مرحلہ ثابت ہوا مثال کے طور پر آرٹیکل 160 میں نیشنل فائننس کمیشن ایوارڈ کی تقسیم صوبوں کی آبادی کے لحاظ سے کرنے کو کہا گیا جس پر اب تک یہ اعتراض اٹھتا آیا ہے کہ صوبوں میں ایوارڈ کی تقسیم وہاں کے قدرتی اور معاشی وسائل کی بنیاد پر کی جانی چاہیے تاکہ بلوچستان جیسا صوبہ جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے وہاں کی عوام کو خوشحالی اور جدت نصیب ہو۔
چنانچہ امکان ہے کہ اس ایوارڈ کے عملی ڈھانچے میں تبدیلی کی جائے گی اس کے علاوہ وفاق کو چاہیے کہ وہ صوبوں کے تعلیم اور صحت کے شعبے بھی صوبائی حکومت سے واپس لے اور ان دونوں شعبوں کی نگرانی خود کرے۔ صحت انسانی زندگی کا ایک بنیادی مسئلہ ہے ہر شہری اس ضمن میں ایک جیسی سہولتوں کا حقدار ہے جبکہ تعلیم کے حوالے سے بنیادی نکتہ پورے ملک کے طلبہ و طالبات کے لیے ایک جیسا تعلیمی نصاب تشکیل دینا ہے جو قومی وحدت کو فروغ دے اور یہ دونوں تبدیلیاں بھی تبھی ممکن ہیں جب وفاق تمام صوبوں کے ان دونوں شعبوں کی ذمے داری اپنے کندھوں پر اٹھا لے۔
غرض یہ کہ اس ترمیم کی اگر متوقع تبدیلیاں یہی ہیں جن کا ذکر ہم نے اوپر کیا تو قومی امکان ہے کہ اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کا فائدہ سیدھا سیدھا عوام کو ہوگا۔ اگر مرکز میں مسلسل اسیی حکومتیں آتی ہیں جو عوام کے مسائل کو لے کر سنجیدہ ہوں تو اس ترمیم میں تبدیلی ان کے کام کرنے کی صلاحیت کو لے کر سود مند ثابت ہوگی۔
باقی اس ترمیم کے حوالے سے دوسرا موقف یہ بھی ہے کہ حکومت اس ترمیم کو لے کر اتنی سنجیدہ نہیں ہے یہ ممکن بھی ہے کیونکہ کچھ مہینے پہلے پی ٹی آئ حکومت کی جانب سے کراچی کو وفاق کا حصہ بنائے جانے کی بات بھی کی گئی تھی لیکن وہ بات صرف ذکر کی حد تک محدود رہی- اب اس ترمیم کے حوالے سے حکومت کی سنجیدگی آئیندہ آنے والے دنوں اور سیاسی حلقوں کی جانب سے ملنے والی حمایت یا مذمت پر مبنی ہے۔  

Comments

Popular posts from this blog

|Drama Review by Qursam Fatima||Kahin Deep Jalay|| An overview of 11 episodes|

|Jo Tu Chahay| |An Overview of 17 episodes| |Review by Qursam Fatima|

|News Review by Quratulain| |Student Union|