|اور جو غور طلب بات ہے| |ازقلم صدف گل|



اور جو غور طلب بات ہے


ازقلم صدف گل



میں نے کبھی کسی مولوی یا عالمِ دین کی سختی سے اتباع نہیں کی۔بس جس کی کسی بات سے کوئی ادراک حاصل ہوا یا کوئی منطق سمجھ لی تو اسی کو ہی سن لیا۔ اسے اب آپ میری دین سے کم وابستگی کہہ لیں یا کچھ اور۔۔۔لیکن  یہ سب بتانے کا مقصد یہ تھا کہ میں کوئی مذہبی انتہاءپسند یا کسی بھی عالمِ دین کی مقتدی نہیں مگر جب مولانا طارق جمیل صاحب اتنی بڑی شخصیت ہو کے ایک لائیو شو میں یہ کہہ رہے تھے کہ فلاں سے میں نے فون پہ معافی مانگی اور فلاں نے میرے کال کو نہیں سنا تو یہ سب بہت ناگوار گزرا اور جب باقاعدہ معافی مانگنے لگے تھے تو ایسا محسوس ہوا جیسے میرے والدین میں سے کوئی  ایسے معافی مانگ رہا ہے اور بلاشبہ دنیا کاسب سے اذیتناک لمحہ ہی یہی ہے جب آپ کے والدین میں سے کسی ایک کی بےعزتی ہورہی ہو یا اُن میں سے کوئی ایک کسی سے آپ کے سامنے معافی مانگ رہا ہو۔ اس معافی کے بعد بھی ان سے جرح ہوتی رہی بلکہ میڈیا کے کچھ لوگوں نے تو باقاعدہ اس معافی میں اپنی فتح کا جشن منایا اور بعد میں بھی کافی کھینچا تانی ہوگئی۔ پس کوئی جھک کے بازی لے گیا تو  کوئی کسی کو جھکا کے ذلیل و خوار ہوا
 اب اگر اس شو میں باقی سوالوں کی طرف چلے جائیں تو اینکر یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ کچھ خواتین کا بھی اعتراض آیا ہے کہ مولانا صاحب ان حالات کی وجہ عورتوں کی بےحیائی قرار دے رہے ہیں تو مولانا صاحب کہتے ہیں کیا آپ نہیں دیکھتے جو ہماری بچیوں کا اشتہاروں میں لباس ہوتا ہے اور آگے سے اینکر اپنی مخصوص چالاکی اور چرب زبانی کا استعمال کرتے ہوئے پوچھتے ہیں "مولانا صاحب میں سیرئسلی جاننا چاہتا ہوں کہ ایسے کونسے لوگ ہیں جو یہ بےحیائی پھیلا رہے ہیں۔" اس سوال سے تو ہر ذی شعور بندہ سمجھ سکتا ہے کہ ایسے پروگرامز کرنے کا مقصد کیا ہوتا ہے۔ خیر میڈیا کتنا سچّا اور کھرا ہے اور کس حد تک "آزادئ رائے" کو دوسروں کے لئے بھی سہل بنا رہا ہے، اس پہ اب کافی بڑے لوگوں نے بھی حقائق سامنے رکھ دیے ہیں۔ مگر اس معاملے میں جو بات سب سے زیادہ غورطلب ہے وہ ہے "بےحیائی کو بےحیائی نہ ماننا"
مارچ کے مہینے میں کچھ اختلافی بحث و مباحثہ کی وجہ سے عورت مارچ سوشل میڈیا پہ ٹاپ ٹرینڈگ پہ آرہے تھے تو ویسے ہی دل میں خیال آیا کہ عورت کے حقوق کی بات کرنا کوئی برا فعل تو نہیں جو اس پہ اتنے تحفّظات آرہے ہیں۔ پھر اس نعرے پر بھی نظرِثانی کی جو کہ بہت سے لوگوں کو کٹھک رہا تھا تو اس میں کوئی ایسی قباحت نظر نہ آئی کہ اگر ایک عورت اپنے جسم پہ ہونے والے ظلم کو برداشت کرنے کے حق میں نہیں تو یہ تو اچھی بات ہے۔ پھر اس کے بعد اس معاملے کی تہہ کو اتنا نہیں جانچا اور پھر ملک میں کرونا داخل ہوا، جس سے یہ سب کہیں پیچھے چلا گیا۔ اب جب مولانا صاحب کے احساس ٹیلی تھون پروگرام میں دعا کے بعد جو ان بیبیوں کا ردِعمل آیا ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس دعا میں آخر ایسا کیا تھا جس سے مولانا صاحب عورت کو محکوم ثابت کرنا چاہ رہے ہیں یا عورت کو ہی اس میں خاص طور پر ہدف بنایا ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لئے ایک دفعہ پھر دعا سن لی۔ مولانا صاحب نے بےحیائی کی بات تو کی ہےمگر اس سے تو میرا سر شرم سے جھک گیا نہ کہ مجھے اپنا آپ محکوم لگا۔ مجھے کہیں پہ عورت کی تذلیل نہیں لگی اور جہاں پہ اگر اس برائی کی بات کی ہے تو وہاں پہ قومِ لوط کا بھی ذکر کیا ہے جن پہ عذاب ہی مردوں کی وجہ سے آیا تھا مگر ان لبریل بیبیوں نے کبھی دینِ اسلام کو پڑھا ہو تو یہ بات سمجھ آئے نا۔ پھر یہی بیبیاں جب سکنڈلائز ہوتی ہیں تو مولانا صاحب کی بہن بیٹیاں بن کے اپنی کالک ان کے طفیل سے دھونے کوشش کرتی ہیں اور یہی مولوی حضرات ہی ان کی عزت سے شادیاں کرا دیتے ہیں۔ یہاں پر حیرانگی کی بات یہ بھی ہے کہ انہوں نے ایک طرح سے یہ مان بھی لیا کہ یہ ہماری طرف اشارہ ہے۔بیبیوں! اگر آپ لوگوں کا تحریک بے حیائی سے پاک ہے  تو پھر کاہے کا رونا۔۔۔؟ اس دن شیریں مزاری کے کچھ ٹویٹس نظر سے گزرے تھے اور کل ان کی ہی بیٹی کی ایک وڈیو  دیکھی جس میں وہ مولانا صاحب اور عورت کی حیا کے حوالے سے بہت نازیبا باتیں کر رہی تھی جس سے صاف ظاہر تھا کہ یہ تحریک اس نظریاتی ملک میں مغربی کلچر لانے کا عزم لئے ہوئے ہیں۔یہاں تو بس میں سیٹ ملنے سے لے کر بینک/دفاتر میں آگے آگے راستہ ملنے تک کے ریلیف کو ہم اپنے عورت کارڈ کی وجہ سے ہی حاصل کر رہے ہیں تو کیا برابری ملنے کے بعد ایسا ممکن ہے؟
عورتوں پہ کہیں ظلم ہو وہاں پہ ان بیبیوں کا میں نے کوئی کارنامہ نہیں سنا مگر ایک عورت کو بے حیائی پھیلانے اور اسلام کی سرکشی سے روکنے پہ ان کا بہت واویلا سن لیا ہے۔ اب یہاں پہ ہم کیا یہ سمجھ لیں کہ اس کے پیچھے اسلام مخالف کوئی بیرونی سازش ہے؟
اس تحریک کی فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہیں؟؟
کیا یہ ہمارے اس خوبصورت فیملی سسٹم کو مغرب کی طرح دلدل میں دکھیل کے ہمیں عیش پرستی میں مبتلا کرنا چاہتی ہیں؟
کیا یہ عورت کی مظلومیت کا سکّہ استعمال کرکے کھلے عام فحاشی کو اسلام میں جائز قرار دینا چاہتی ہیں؟
سوالات غور طلب ہیں۔۔۔!

ازقلم صدف گل

Comments

  1. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
    Replies
    1. This comment has been removed by the author.

      Delete

Post a Comment

Popular posts from this blog

|Drama Review by Qursam Fatima||Kahin Deep Jalay|| An overview of 11 episodes|

|Jo Tu Chahay| |An Overview of 17 episodes| |Review by Qursam Fatima|

|News Review by Quratulain| |Student Union|