|ناول: لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا| | تبصرہ نگار: قُرسم فاطمہ |
ناول:
لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا
تحریر:
سیّدہ وجیہہ بخاری
تبصرہ نگار: قُرسم فاطمہ
” اے مومنو! شیطان کے قدموں پر
نہ چلنا اور جو شیطان کے قدموں پر چلے گا تو شیطان تو بے حیائی کی باتیں اور برے کام
ہی بتائے گا اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ایک شخص بھی تم میں
سے پاک نہ ہوتا مگر جس کو اللہ چاہتا ہے پاک کردیتا ہے اور اللہ سننے والا اور جاننے
والا ہے۔“
(سورہ نور: ۲۱)
ابتدائیہ:
انسان
کو فطرتِ سلیمہ پر پیدا کیا گیا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ اس میں خیر و شر کا مادہ رکھ کر
جہاں ایک طرف امتحان میں مبتلا کردیا گیا ہے کہ خیر و شر میں سے ایک راہ کا انتخاب
کرنا وہیں دوسری طرف تنبیہہ بھی کردی گئی ہے کہ شیطان کے قدموں پر نہ چلنا۔ شیطان تو
محض برائی کی راہ پر ہی گامزن کرے گا۔ چونکہ مٹی کی سرشت میں ہر لمحہ تبدیل ہوتے رہنا
شامل ہے اس لیے مٹی کا شاہکار انسان بھی کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ کبھی تو خیر کے راستے
پر چلنے لگتا ہے اور کبھی شر کی راہ اسے اپنی طرف کھینچنے لگتی ہے۔ یوں تا عمر نفس
کے ساتھ حق و باطل کی جنگ چلتی رہتی ہے اور انسان زندگی کے حقائق و تجربات کی بُھٹی
میں جلتے ہوئے کبھی بہار کی مانند کھلکھلانے لگتا ہے تو کبھی خزاں کی مانند مُرجھا
جاتا ہے اور جب زندگی جاڑے کی مانند سخت روپ دھارتی ہے تو کبھی اپنی ذات کو بچانے کے
لیے دنیا سے منہ موڑ کر کسی اندھیر کونے میں پناہ لے لیتا ہے اور کبھی سختی برداشت
کرنے کی سکت نہ رکھتے ہوئے سسک سسک کر جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ روزِ اوّل سے
لے کر آج تک۔۔۔ کبھی بھی کسی انسان کی قسمت کسی دوسرے انسان جیسی نہیں ہوئی۔ ہر ایک
الگ الگ بھٹی میں پک رہا ہے۔ ہر ایک اپنے اپنے نصیب کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن رہا ہے۔
سب کی فطرت مختلف ہے۔ سب کا امتحان الگ ہے۔ مگر جملۂِ کائنات کے لیے اگر کچھ یکساں
ہے تو وہ صرف "اللہ کی رحمت" ہے۔ اللہ کا فضل اور مہربانی عالمِ انسان کے
لیے ایسے سائے کی مانند ہے جو انسانوں کو گناہوں اور سختیوں کی کڑی دھوپ سے بچا کر
اپنی رحمت سے اس انداز میں ڈھانپ لیتا ہے کہ پھر صغیرہ و کبیرہ۔۔ حتیٰ کہ ہر طرح کے
گناہ کا مرتکب ہونے والا انسان بھی تاعمر سجدے سے سر بلند نہیں کرپاتا۔ مگر یہ کیسی
حیرت انگیز حقیقت ہے۔۔۔ توبہ کرنے کا حکم ہر ایک کے لیے ہے مگر توبہ کرنے کی توفیق
ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ وہ خالق۔۔۔ لمحوں میں کی جانے والی خطاؤں کی سزا صدیوں پر
بھی محیط کرسکتا ہے اور صدیوں خطاؤں میں ڈوبے رہنے والوں کو لمحوں میں بھی معاف کرسکتا
ہے۔ انسان اگر اللہ کی حکمتوں پر غور و فکر کرنا شروع کرے تو حیرت و ششدر کے سمندر
میں غوطۂِ زن ہوکر دم بخود رہ جائے اور بے ساختہ پروردگار کی مصلحتوں کا قائل ہونے
لگے۔
مرکزی
خیال:
گلستانِ
ادب میں نمودار ہونے والی نوزائیدہ کل سیّدہ وجیہہ بخاری اردو پاپولر فکشن پر قلم آزمائی
کرنے والی وہ لکھاری ہیں جنہوں نے روایتی موضوعات سے قطع نظر ہوکر معاشرے کے چند ایسے
تلخ حقائق کو موضوعِ تحریر بنایا جن پر (عموماً نوآموز مصنفین) قلم آزمائی نہیں کرتے۔
مصنفہ نے سورت نور کی چند آیتوں کو معاشرتی پہلوؤں کے پیراہن میں ڈھال کر علم و حکمت
کے چراغ روشن کرنے کی بے حد عمدہ کوشش کی ہے۔ ان کا پہلا ناول "لمحوں کی خطا،
صدیوں کی سزا" ہر انسان کی روزمرہ زندگی میں رونما ہونے والے بے شمار مسائل کا
احاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے انسانوں کی زندگی پر بھی گہری روشنی ڈالتا ہے جن کی لمحوں
میں کی گئی خطائیں اُن کی ذات اور ذات سے جڑے بے شمار لوگوں کے لیے کس طرح عمر بھر
کا روگ بن جاتی ہیں۔
کہانی
و کردار:
صحفۂِ
اول سے کہانی کی ابتداء کریں تو مصنفہ نے اصرار و تجسس سے بھرپور کرداروں کے ساتھ کہانی
کا آغاز اس انداز میں کیا ہے کہ قاری اگر ایک دفعہ کتاب تھام لے اور صرف پہلے چند صحفے
ہی پڑھے تو پورا ناول مکمل کیے بنا کتاب واپس نہیں رکھ سکتا کیونکہ مصنفہ نے ابتدائی
صفحات میں ہی بے حد مختصر الفاظ کے ذریعے تمام کرداروں کی الجھی ڈوریں ایک ایک کرکے
قاری کے ہاتھ میں تھمادی ہیں جنہیں سلجھائے بغیر قرار حاصل کرنا ناممکن سا لگنے لگتا
ہے۔ اس ناول کا سب سے اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ کہانی میں بے شمار کردار ہیں اور تمام
کردار کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قاری اس کہانی کو پڑھتے
وقت اس میں محو ہوکر رہ جاتا ہے۔ فاطمہ، صارم شاہ، سمی، ضرار حسن، نور، روشنی، المیر،
شیزا حسان، مائیکل، انبھر اور حیدر عباس ناول کے مرکزی کرداروں میں شامل ہیں۔
شریعت
کی مقرر کردہ حد عبور کرنے والے فاطمہ اور صارم شاہ کی زندگیاں یہ سبق سکھاتی ہیں کہ جذباتی محبت اور جلد بازی کے زیرِ اثر کیے جانے
والے فیصلے کس طرح انسان کی اپنی اور اس کی ذات سے جڑے تمام لوگوں کی زندگیاں برباد
کردیتے ہیں۔ مگر عبرت کے ساتھ ہی ساتھ یہ سبق بھی دیا گیا ہے کہ توبہ کا دروازہ ہر
ایک کے لیے ہر وقت کھلا ہے۔ انسان چاہے جتنا مرضی اپنی اصل سے منہ موڑ کر من چاہی راہ
کے پیچھے بھاگ لے۔۔۔ مگر ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب وہ منہ کے بل ضرور گرتا ہے اور
یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ضمیر کی عدالت کٹہرے
میں لاکر اس انداز میں کھڑا کرتی ہے کہ انسان اپنے کیے پر شرمندگی کے باعث بے ساختہ
سجدہ ریز ہوجاتا ہے۔ لمحوں میں کی گئی خطاؤں کی سزا جب صدیوں پر محیط کردی جاتی ہے
تو سچے دل سے کی جانے والی توبہ وہ واحد ہتھیار ہے جو سزا کی مدت کو مختصر کرکے انسان
کے مضطرب و بے ضرر وجود کو قرار عطا کرنے کے ساتھ ساتھ معافی کی سند بھی عطا کرتا ہے۔
اگر
دنیا کے تمام رشتے ایک پلڑے میں اور دوستی کا رشتہ دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو
کوئی شک نہیں کہ دوستی کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہے گا۔ انسان کی زندگی میں اگر کبھی ایسا
وقت آئے جب تمام رشتے ساتھ چھوڑ رہے ہوں تو دوست وہ ہمدرد بن کر سامنے آتا ہے جو ہر
راہ ہر قدم پر آخری حد تک ساتھ نبھاتا ہے۔ نور، روشنی، سمی اور حسن کے کرداروں کے ذریعے
مصنفہ نے دوستی کے تعلق اور رشتے کو بےحد خوبصورت
انداز میں بیان کیا ہے۔ دوستی اور محبت کے متعلق سنجیدگی سے ہٹ کر محبت بھرے انداز
میں لکھنا بھی یقیناً ایک فن ہے اور مصنفہ نے بھی ناول میں تخیلات سے ہٹ کر حقیقت کے
پیراہن میں ڈھال کر ضرار اور نور، المیر اور روشنی اور ضحاک اور ضوفگن کی محبت کی داستان
کو بےحد سادہ اور ہلکے پھلکے انداز میں تحریر کرکے کہانی کا لطف مزید دبالا کیا ہے۔
شیزا
حسان اور حیدر عباس کی کہانی اپنے دامن میں یہ سبق سموئے ہوئے ہے کہ دولت و شہرت کے
پیچھے بھاگنے والے آخر میں کس طرح خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں۔ حیدر عباس کے ہاتھوں کٹھ
پتلی بننے والی معروف اداکارہ شیزا کے تکبر کی کہانی اس انجام پر اختتام پذیر ہوتی
ہے کہ رشتوں کی ناقدری کرتے ہوئے انسان اپنی انا کے زعم میں جتنا بلند ہوتا چلا جاتا
ہے اُتنی ہی اونچائی سے پاتال میں پھینک بھی دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف شیزا کی بہن انبھر
کے کردار کو اگر مثالی کردار کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ انبھر جیسے نیک و پاکیزہ سیرت
انسان اُس جگنو کی مانند ہوتے ہیں جن کے نور کی ٹمٹماتی روشنیاں ان کی ذات سے جڑے تمام
انسانوں کی زندگیاں بھی پُرمنور کردیتی ہیں۔ شیزا کا مائیکل کو ٹُھکرا کر حیدر عباس
کا انتخاب کرنا اور انبھر کی مدد سے غیر مسلم مائیکل کا محمد عیسیٰ بننے تک کا سفر
مصنفہ نے کمال عمدگی کے ساتھ تحریر کرکے یہ سبق دیا ہے کہ نیک عورتیں نیک مردوں کے
لیے اور بری عورتیں برے مردوں کے لیے کس طرح منتخب کی جاتی ہیں۔
زندگی
کو غیر سنجیدگی سے لینے والے انسانوں کو زندگی اکثر ایسے امتحانوں میں ڈال دیتی ہے
کہ پھر انہیں نہ آگے کوئی منزل دکھائی دیتی ہے نہ پیچھے کوئی راہ۔ انسان قسمت سے جتنا
مرضی بھاگنے کی کوشش کرلے مگر زندگی جب امتحانات لینے پر آتی ہے تو سانس کی ڈوریں کھینچ
کر ہی دم لیتی ہے۔ ناول کے مرکزی کردار سمعان مصطفیٰ عرف سمی کی زندگی بھی ایسے ہی
اتار چڑھاؤ کی ایک غمناک داستان ہے جس کو مصنفہ نے کمال عمدگی کے ساتھ حقیقی درد میں
ڈوب کر قلم بند کیا ہے۔ من چاہی خواہشات کے مطابق خوشگوار زندگی گزارنے والا سمی جب
ناکردہ بہتان کی زد میں آیا تو نہ رشتے ساتھ رہے نہ دوست۔۔۔ زندگی طوفانوں کی زد میں
آکر ڈگمگاتی رہی اور سمعان مصطفیٰ شیر دل بن کر ہر طوفان کا مقابلہ کرتے کرتے بلآخر
زندگی سے ہی ہار گیا۔ سمعان اور ضرار کی دل سوز داستانِ یارم اس کہانی کا سب سے خوبصورت
پہلو ہے۔ سمعان کے بعد ضرار نے ضوفگن کو بہنوں جیسا مان اور مصطفیٰ پاشا کو والد جیسا
احترام دے کر حقیقی معنوں میں الفت و یگانگت کی عملی مثال قائم کی ہے۔
اس
کے علاوہ سمعان کے والدین، نور اور روشنی کی والدہ، ضرار کے دادا اور دیگر تمام کردار
بھی اپنے اپنے وقت پر قارئین پر گہرے اثرات مرتب کرنے میں کامیاب رہے۔
تعریف
و تنقید:
”لمحوں
کی خطا صدیوں کی سزا“ بلاشبہ ایک ایسی خوبصورت تحریر ہے جس کے ذریعے مصنفہ نے بے شمار
مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے علاوہ دینی و دنیاوی معلومات بھی فراہم کی ہے۔ جابجا
کی جانے والی منظر نگاری نے کہانی کے حسن کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ یہ ثابت بھی کیا ہے
کہ مصنفہ کو استعارات و تشبیہات پر بخوبی عبور حاصل ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی پولیس
سے لے کر میڈیا انڈسٹری تک اور ان سب کے درمیان روزمرہ زندگی میں رونما ہونے والے معاملات
و مسائل کو بھی تحقیقی نگاہ سے قلم بند کیا گیا ہے۔ یہ ناول جہاں ایک طرف اپنے اندر
بے شمار قابلِ رشک و تحسین پہلو سموئے ہوئے
ہے وہیں دوسری طرف چند کمزور پہلو کہانی پر نمایاں اثرات مرتب کرتے ہوئے یہ واضح کررہے
ہیں کہ قلم کار کو اندازِ تحریر پر مزید غور و طلب درکار ہے۔ ناول کے مختلف مقامات
پر مصنفہ کی جانب سے کی گئی جلد بازی کہانی کو کمزور کرنے میں اولین کردار ادا کررہی
ہے۔ یوں گماں ہوتا ہے جیسے ابتداء میں ناول کو قدرے سست روی جبکہ آخر میں قدرے تیز
رفتاری سے تحریر کیا گیا ہے۔ دو سو صفحات کے ناول میں تمام کرداروں کو پہیلی کی صورت
پیش کرکے تقریباً سو ڈیڑھ سو صفحات میں بے جا طوالت اختیار کرنے کے بعد مصنفہ نے آخر
میں بیانیہ انداز اختیار کرکے اُن تمام مسائل کو جیسے لمحوں میں سلجھا کر ناول مکمل
کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کردار سازی میں کمی کا عنصر واضح رہا اور مرکزی کرداروں
کی کہانیاں بھی اُس انداز میں اثرات مرتب نہیں کرپائیں جیسا کہ اُن کا حق تھا۔
بہترین
لکھاری کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو مکمل طور پر محو کرکے کہانی کے کردراروں کو
ایک نئی روح کے ساتھ جنم دے۔ کہانی کا ہر کردار زبان و بیاں سے لے کر انداز و اطوار
۔۔۔حتیٰ کہ ہر رو سے دوسرے کردار سے مختلف ہو۔ کسی بھی کردار کی چھاپ کسی دوسرے کردار
میں نمایاں نہ ہونا ہی کہانی کو خوبصورت بناتا ہے مگر اس ناول میں تمام کردار ایک ہی
چھاپ اوڑھے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر ناول کی تمام لڑکیاں نور سے روشنی اور ضوفگن سے
انبھر تک۔۔ سب نقاب کرتی ہیں۔ ضرار کا اپنے دادا سے اندازِ گفتگو اور ضحاک کا اپنی
ماں سے اندازِ گفتگو مکمل طور پر یکساں ہے۔ اسی طرح نور اور روشنی کی باہم نوک جھوک
اور سمی اور ضرار کے مابین مکالمے ایک ہی نہج پر
تحریر کیے گئے ہیں۔
اردو پاپولر فکشن میں ایک
ہی کردار کو مختلف نام دے کر قارئین کو تذبذب کا شکار کرکے ناول کو الجھن آمیز بنانے
کا رواج تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے مگر یہ سلوک اگر کہانی کے ستر فیصدکرداروں کے ساتھ
روا رکھا جائے تو قارئین دلچسپی لینے کی بجائے بیزاریت کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ مصنفہ
نے ناول کے تمام مرکزی کرداروں کو دوہرے نام دے کر کہانی کی بنیاد پر منفی اثر مرتب
کیا ہے۔ مثال کے طور پر ناول کے اسی فیصد حصے میں دس مرکزی کردار ہیں جو اگلے بیس فیصد
حصے میں پانچ رہ جاتے ہیں کیونکہ ایک ہی کردار کی دو کہانیاں دو مختلف ناموں کے ساتھ
چلتی جارہی تھیں۔ اگر یہ سلوک صرف ایک یا دو کرداروں کے ساتھ رکھا جاتا تو یقیناً ناول
کی بنیاد مضبوط رہتی۔
اس
ناول کی کہانی طویل مگر صفحات بے حد مختصر ہیں۔ کہانی میں موجود کرداروں کے جمِ غفیر
کو دو سو صفحات میں سمیٹنا کرداروں کے ساتھ ناانصافی کرنے کے مترادف ہے کیونکہ آخر
میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر کردار کو مکمل وقت نہیں دیا گیا۔ مثال کے طور پر صفورہ
اور صارم کے نکاح کے بعد پیش کردہ حالات، شیزا کا مکافاتِ عمل، مائیکل کا اسلام کے
متعلق سیکھنا، سمی کی گھر سے جانے کے بعد کی کٹھن زندگی، شیر دل کا نور کو بے وجہ اغواہ
کرنا، المیر کے نتاشہ کے ساتھ تعلقات اور ارحم ملک کا کردار۔۔۔۔ یہ تمام واقعات بے
حد عجلت آمیز انداز میں تحریر کیے گئے ہیں۔
چونکہ
یہ ناول مصنفہ کی تحریر کردہ پہلی کاوش ہے اس لیے اگر ان تمام نکات کو اصلاحی اصطلاحات
تصور کیا جائے تو زیادہ مناسب رہے گا۔ مصنفہ کو آئندہ تحریروں کے لیے قلم میں سنجیدگی
کا عنصر نمایاں کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اسی کے باعث جملوں میں پختگی آئے گی اور
مکالمہ نگاری کا ہنر بھی نکھرے گا۔ ایک قاری اور نقاد ہونے کی حیثیت سے نوآموز مصنفین
کی حوصلہ افزائی کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اس لیے آپ بھی کتاب پڑھ کر اس ذمہ داری
کو ضرور نبھائیں تاکہ مصنفہ کے الفاظ کو آئندہ تحریروں کے لیے مزید تقویت حاصل ہوسکے۔
آخر
میں سیدہ وجیہہ بخاری کے عقل وشعور، فہم و فراست اور ذہانت و بلاغت کے لیے بے شمار
دعائیں۔ اللہ آپکو علم کے عین کا عرفان عطا فرمائے اور آپ کی دیگر تحاریر قارئین کو
مکمل طور پر سحر انگیز کرنے میں کامیاب رہیں۔ ان شاء اللہ!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم
شد


Comments
Post a Comment