| کورونا وائرس کے بعد کی دنیا ؟| |از قلم: افصح اقبال|
کورونا وائرس کے
بعد کی دنیا ؟
از قلم: افصح اقبال
دسمبر 2019 کے آخری عشرے میں چین سے کورونا وائرس کے پھیلنے
کی اطلاعات آنا شروع ہوئیں اس وبا کا مرکز چین کا شہر ووہان تھا۔ ابتداء میں اسے ایپی
ڈیمک یعنی کسی مخصوص علاقے تک محدود رہنے والی وبا تصور کیا گیا تاہم چین کے طبی ماہرین
نے عالمی ادارہ صحت کو اس وبا کے لیے خبردار رہنے کا عندیہ ضرور دیا۔ تیرہ جنوری 2020 کو تھائی لینڈ میں اس وبا کا شکار ایک مریض کے سامنے
آنے کے سبب دنیا میں افراتفری پھیل گئی کیونکہ چین سے باہر اس وائرس کا یہ کوئی بھی
پہلا مریض تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس وائرس نے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور
یہ وائرس جلد ہی پینڈیمک کی صورت اختیار کرگیا۔ بالآخر 30 جنوری 2020 کو عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر میں انسانی صحت سے
متعلق ایمرجنسی نافذ کردی۔ وہ ممالک جہاں اس وبا کے متعدد مریض سامنے آئے ان میں جاپان،امریکا،جنوبی
کوریا،جرمنی،فرانس،ملائیشیا،پاکستان اور وسطی ایشیا کے ممالک بھی شامل ہیں۔ جو ممالک
اس وبا سے بری طرح متاثر ہوئے ان میں اٹلی،ایران ،اسپین سرفہرست ہیں جہاں اس وبا کے
سبب زیادہ شرع اموات ریکارڈ کی گئی۔
الجزیرہ کے تازہ ترین
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا میں آٹھ لاکھ سے زائد انسان اس وبا کا شکار ہیں ایک لا کھ سے زائد افراد صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ اس وائرس کے سبب جابحق افراد کی تعداد چالیس ہزار تک جاپہنچی ہے۔
اس وبا نے نا صرف
انسانی صحت کو متاثر کیا بلکہ پوری دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کو معاشرتی اور معاشی
طور پر مفلوج کردیا ہے۔ چونکہ یہ وائرس انسان سے انسان میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا
ہے اسی سبب طبی ماہرین نے سوشل ڈیسٹینسنگ کو اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کا واحد حل
قرار دیا۔ یوں دنیا بھر کے تمام ایسے مقامات جہاں عوامی رش پایا جاتا ہے انہیں عارضی
طور پر بند دیا گیا جن میں تمام تفریحی مقامات تعلیمی ادارے اور تجارتی مراکز شامل
ہیں۔ اس وجہ سے دنیا کو معاشی مسائل کا سامنا ہے دوسری طرف لوگ گھروں میں محصور روزگار
سے لے کر اپنے دوست اور احباب سے ملنے ملانے سے محروم ہیں۔
غرض یہ اس وائرس
کے سبب دنیا بے یقینی کا شکار ہے۔ یہ وبا کب ختم ہوگی اس سوال سے زیادہ اہم سوال یہ
ہے کہ اس وبا کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟ دنیا کے رجحانات کیا ہوں گے؟ کورونا وائرس کے
بعد دنیا میں جہاں بہت سے معاشی اور سیاسی بحران متوقع ہیں وہیں سیاسی اور معاشی ماہرین
کی جانب سے انقلاب کی پیشگوئی بھی کی گئ ہے۔
اس پیشگوئی کے اور
آنے والے بحران کا جائزہ مندرجہ ذیل ہے:
دنیا کے بیشتر ممالک
میں لاک ڈاؤن کے باوجود ابھی بھی اگر عالمی معیشت تباہ ہونے سے بچی ہوئی ہے تو اسکا
سارا کریڈٹ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور آنلائن
مارکیٹنگ کو جاتا ہے جس کی مدد سے اس وقت ستر ملین لوگ اپنے گھروں سے دفتری کام سرانجام
دے رہے ہیں لیکن اگر یہ لاک ڈاؤن اسی طرح جاری رہا تو خدشے کے عین مطابق یہ اعداد و
شمار دن گزرنے کے ساتھ کم ہوتے جائیں گے۔
کورونا وائرس کے
معیشت پر موجودہ اور مستقبل میں پڑنے والے اثرات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ
سپر پاور امریکا میں اس وقت ساڑھے چھ ملین لوگ بےروزگا ہوچکے ہیں اور مزید لاک ڈاون
کے سبب یہ اعداد وشمار آٹھ سے بارہ ملین تک جاسکتے ہیں۔ جب سپرپاور ان معاشی حالات
سے گزر رہی ہے تو پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے معاشی حالات کا اندازہ کوئی بھی ہوش
مند انسان باخوبی لگا سکتا ہے۔
انہی اعدادوشمار
اور حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے معاشی ماہرین نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دنیا اسی
طرح کے معاشی ڈپریشن کا شکار ہوسکتی ہے جس طرح کے معاشی ڈپریشن کا سامنا دنیا نے 1929 میں کیا تھا جس کی ابتداء امریکا سے ہوئی تھی جب
اسٹاک مارکیٹ کریش ہوئی لاکھوں لوگ بے روزگار اور بھوک و افلاس کا شکار ہوئے اور اسکی
بنیادی وجہ صعنتوں میں پیداوار کا ختم ہوجانا تھا۔
لیکن کچھ معاشی ماہرین
کا خیال ہے کہ کورونا وائرس کے بعد دنیا 1929 کے
معاشی ڈپریشن سے بھی زیادہ خطرناک ڈپریشن کا سامنا کرے گی میر محمد علی خان جو کہ ایک
سرمایہ کار بینکر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سوشل میڈیا ایکٹویسٹ بھی ہیں انہوں نے اپنی
فیسبک پوسٹ میں لکھا کہ
"اگر اگست تک یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تھا تو ہم اس
ڈپریشن میں ہوں گے جو دنیا نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا یہاں تک کہ 1929 میں بھی
نہیں"
اپنے اس تجزیہ کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی کہ میں دنیا کی جی ڈی پی اتنی زیادہ نہ تھی اور نہ ہی اس وقت ٹریلین ڈالر کی کمپنیاں موجود تھیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ 1929 اور2020 کا موازنہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کہ آپ ایک انسان کے زخموں کا موازنہ جو فٹ پاتھ سے گرا ہو اس انسان کے زخموں سے کریں جو دس منزلہ عمارت سے گرا ہے۔
اپنے اس تجزیہ کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی کہ میں دنیا کی جی ڈی پی اتنی زیادہ نہ تھی اور نہ ہی اس وقت ٹریلین ڈالر کی کمپنیاں موجود تھیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ 1929 اور2020 کا موازنہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کہ آپ ایک انسان کے زخموں کا موازنہ جو فٹ پاتھ سے گرا ہو اس انسان کے زخموں سے کریں جو دس منزلہ عمارت سے گرا ہے۔
ہاورڈ یونیورسٹی
میں بین الااقوامی تعلقات کے پروفیسر سٹیفن ایم والٹ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے
طاقت اور اثرو رسوخ کی مغرب سے مشرق منتقلی میں تیزی آئے گی۔ جنوبی کوریا اور سنگاپور
نے اس سے بہترین طریقے سے نمٹنا ہے، چین نے ابتدائی طور پر کچھ غلطیاں کرنے کے بعد
بہت اچھا ردعمل دیا ہے۔
چین نے جس طرح حیرت
انگیز طور پر تین ماہ کے کم ترین عرصے میں ایک تیزی سے پھیلنے والی وبا پر قابو پالیا
وہ قابل تحسین ہے اور اس کے پیچھے اس نظریہ کا بہت بڑا کردار ہے جسے انہوں نے اپنایا
ہوا ہے یعنی کمیونیزم۔ جس کے تحت تمام املاک پر ریاست کو اختیار حاصل ہے جہاں صحت سے
لے کر تعلیم تک ریاست کی تمام عوام کو ایک جیسی سہولیات میسر ہیں یہی وجہ ہے کہ کورونا
وائرس کے لیے وہاں کی حکومت کو منظم لاک ڈاؤن کے لیے کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرنا
پڑا اور وبا کا شکار ہونے والے تمام افراد کو ایک ہی طرح کا معیاری طبی علاج میسر تھا
جس کی وجہ سے مریض جلدی صحتیاب ہوئے۔
چین کی اس کامیابی
کے پیش نظر کیپٹلزم کے ہامی افراد کمیونزم کے مثبت نکات کو سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں چین کے اقدامات اور نظام کی تعریف
کی۔
عالمی معیشت کے حوالے
سے اس متوقع انقلاب کی پیشگوئی کی دوسری بڑی وجہ یہ کہ چین نے اس وبا سے جلد از جلد
قابو پالیا اور اب یہ امریکا کے گلے پڑ گئ ہے امریکا اس وائرس کے سبب چین سے زیادہ
نقصان اٹھا رہا ہے اور اسی لیے خدشہ ہے کہ عالمی معیشت کی باگ ڈور اس کے ہاتھ سے نکل
سکتی ہے ۔ باقی صورتحال آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوجائے گی۔
عالمی معیشت کے علاوہ
کورونا وائرس کے بعد دنیا کے سیاسی رجحانات بھی متاثر ہوں گے؟ اس وائرس کی ایمرجنسی
کے دوران دنیا پر ایک حیران کن انکشاف ہوا وہ یہ کہ دنیا کی تمام ایٹمی طاقتیں جن کے
پاس ایٹمی ہتھیاروں کا نا ختم ہونے والا ذخیرہ ہے ان ریاستوں کے پاس انسانی صحت سے
متعلق وسائل اس ذخیرہ سے کم ہیں۔ یعنی جان بچانے والے ہتھیاورں سے زیادہ جان لینے والے
ہتھیار دنیا نے محفوظ کررکھے ہیں۔ خود سپر پاور امریکا کے صدر نے جنوبی کوریا کے صدر
سے میڈیکل مصنوعات فراہم کرنے سے متعلق اپیل کی۔
اس انکشاف کے سبب
ماہرین سیاسیات کا اندازہ ہے کہ مستقبل میں عوام انتخابات میں اپنے اپنے لیڈروں کو
اس بنیاد پر ووٹ دیں گے کہ وہ اپنی صلاحیتیں جنگی جنون اور دوسری ریاستوں پر سبقت لے
جانے کے بجائے اس طرح کی پروگرام پر خرچ کریں گے کہ اس طرح کی کسی بھی عالمی ایمرجنسی
کی صورت میں انہیں کسی دوسری ریاست کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔
یعنی مستقبل میں
دنیا خود کو جنگ سے زیادہ اس طرح کے کسی بھی وائرس سے لڑنے کے لیے تیار کرے گی۔
اگرچہ اگر میڈیکل
سائنس اس وائرس کا علاج ڈھونڈنے اور ویکسین ایجاد کرنے میں لگی ہوئی ہے اور اس سلسلے
میں کسی معجزے کی منتظر ہے کہ یہ ویکسین جلدی بن جائے یا علاج جلدی ممکن ہوجائے لیکن
تاحال کوئی تسلی بخش نتائج دینے سے قاصر ہے۔ یعنی فی الحال دنیا کے پاس چند احتیاطی
تدابیر اور لاک ڈاؤن کے علاوہ اس وائرس سے بچنے کا اور کوئی ہتھیار نہیں ہے۔ اگر آنے
والے چند ماہ میں اس وائرس کی کوئی ویکسین ایجاد ہوجاتی ہے تو یہ عین ممکن ہے کہ دنیا
ان متوقع بحرانوں سے بچ جائے۔
غرض یہ کہ کورونا
وائرس ختم ہونے تک ہر انسان اور ہر قوم و ریاست کا ایک ہی مقصد ہے سروائول۔ فی الحال
دنیا اس سروائول کی جنگ انفرادی طور پر لڑ رہی ہے لیکن حالیہ لاک ڈاؤن اور بڑھتی ہوئی
شرح اموات کے سبب یہ انفرادی جنگ اجتماعی جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے جس کی وجہ معیشت
اور کم ہوتے وسائل ہوں گے۔ اور جنگیں جہاں بحرانوں کو جنم دیتی ہیں وہیں کسی نہ کسی
خطے میں انقلاب بھی برپا کردیتی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کون ہوں گے وہ لوگ جو کورونا
وائرس کی جنگ کے سروائور قرار پائیں گے اور کورونا وائرس کے پس منظر کی صورتحال اور
اس کے بعد برپا ہونے والے حالات کو تاریخ کی کتابوں میں قلم بند کریں گے
افصح اقبال

Comments
Post a Comment