|رزق زوال از نعیمہ ناز| |تبصرہ نگار: بشرہ ایوب خان|
ناول : رزق زوال
از: نعیمہ ناز
تبصرہ نگار: بشرہ ایوب خان
خواتین ڈائجسٹ 18--19
ریٹنگ: 4.5/5
آہ!! رزق زوال ۔۔۔ وہ رزق جو زوال کی طرف لے جاتا ہے ۔۔ بانو قدسیہ کا فلسفہ ہے کہ حرام مال آپ کی جینز میں اثر انداز ہوتا ہے۔
مرکزی خیال
نعیمہ کے بہت سے افسانے ناولٹ نظروں سے گزرے زیادہ تر ہلکے پھلکے موضوعات پر تھے
لیکن اس ناول کو پڑھ کر میں جیسے ایک سکوت میں ہوں۔ قصہ چار درویش کی طرز پر (اس بات
سے قطع نظر کہ وہ درویش تھے یا نہیں) کہانی کو لے کر چلتے ہوئے مصنفہ نے کہانی میں
کہیں بھی دلچسپی کم نہیں ہونے دی۔۔۔ اس میں تاریخ ھند کی جھلک بھی ملے گی اور انگریزوں
کا شاہانہ دور بھی۔۔۔ وہ لوگ جنہوں نے مسلمانوں
کا ساتھ نبھا کر وفاداری کی مثالیں قائم کیں
اور وہ بھی جنہوں نے اپنے ہی مالک سے غداری کرتے ہوئے انگریزوں کا مصاحب بننے کو ترجیح
دی ۔
کہانی کے کردار
کہانی کے کردار
کرداروں کی بات کروں تو داستان شروع ہوتی
ہے بیگم زرتاج مہر سے جو اس وقت ہسپتال میں پڑی ہے لیکن سب سنتی ہے اور اس کے چار بیٹے
جن کی داستان کسی نہ کسی طرح ان کو مٹی سے جوڑتی ہے ۔۔۔ یہ وہ خاندان ہے جو اپنی مٹی
کو بھول بھال کسی دوسری جگہ آ بیٹھا ہے اور انہی کے طور طریقے اپنا چکا ہے۔ ان کرداروں
میں "قاسم علی" کا خون ہے وہ جس نے اپنوں سے غداری کی اور غیروں سے نبھائی
اور خود کو مالک سمجھ بیٹھا ۔۔ نجانے انسان یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ایک خدا بھی ہے
جو سب دیکھتا ہے ۔۔ اور اپنے اعمال کا بھگتان بھگتنا پڑتا ہے ۔۔
اور ان سب نے قاسم علی کے اعمال کو کیسے
آگے بڑھایا اس کے لئے آپ کو ناول پڑھنا پڑھے گا ۔۔
اسی داستان میں ایک داستان گو ہیں
"نور فاطمہ" جو داستان لکھتی بھی ہے اور اس داستان کا حصہ بھی ہے ۔۔۔ نور
فاطمہ جس کے پرکھوں کے ساتھ قاسم علی نے غداری کی آج اسی نسل کے داود کو اسی نسل کی
نور فاطمہ سے محبّت ہے ۔
لیکن کیا یہ محبّت !داود جو کے زرتاج مہر
کا پوتا ہے اس کو برائی کی جانب جانے سے روکے
گی یا برائی کی جینز زیادہ طاقتور ہونگی ؟؟؟
کیا ہوگا جب نور فاطمہ کو پتہ چلے گا کے
داود اصل میں کس کا بیٹا ہے ؟؟؟
اقتباس
اقتباس
ایک ہی پیڑ پر لگنے والے پھلوں میں سب
ہی میٹھے نہیں ہوتے۔ کوئی کٹھا کوئی پھیکا اور کوئی کڑوا بھی
ہوتا ہے ۔۔۔ کسی میں کیڑے
بھی پڑ جاتے ہیں۔۔
ہر انسان کو اللّه خاص فطرت پر پیدا کرتا
ہے۔

Comments
Post a Comment