|ناول:عکس| |تجزیہ نگار:جویریہ گل|
ناول کا نام: عکس
مصنفہ کا نام: عمیرہ احمد
تجزیہ نگار:جویریہ گل
اہم کردار: عکس مراد علی, شیر دل, شہر
بانو
ناولوں کی دنیا میں جب بھی کسی مذہبی تخلیق
کا ذکر آتا ہے تو چند چیدہ چیدہ مصنفین کا نام ذہن کے پردے پہ عیاں ہوتا ہے. جن میں
سے ایک ہیں....محترمہ عمیرہ احمد۔مگر ناول عکس نہ تو مذہبی پلاٹ پہ مبنی ہے اور نہ
ہی عقائد پر بلکہ یہ ناول ہے معاشرتی سوچ کی اس عکاسی کا جو معاشرہ
میں موجود ایک ناسور کی وجہ بنتے ہوئے خاندانی
نظام میں پنپتے ہوئے رشتوں کو کھوکھلا کررہا
ہے۔ اردو ادب کا ایک بہترین ناول جس میں روایتی سوچ اور نقطۂِ نظر کو چیلنج کیا گیا
ہے۔
مرکزی خیال
کہانی کا دائرہ جنسی طور پر ہراساں ہونے
والی ایک بچی کے گرد گھومتا ہے جسے اس کے نانا نے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے بڑی کوششوں
سے بہت ہی نزاکت سے پالا ہوتا ہے۔ اس ناول
میں ایک اہم پہلو جو اٹھایا گیا وہ یہ ہے کہ کس طرح جنسی زیادتی انسانی دماغ پہ نظر
انداز ہوتی ہے اور اگر کسی زیادتی کا شکار بچے کی بروقت طبی کے ساتھ ساتھ نفسیاتی رہنمائی
نہ کی جائے اور غفلت سے کام لیتے ہوئے اسے اس کے حال پہ چھوڑ کر ٹھیک ہونے کی امید
رکھی جائے تو وہ بچہ بڑا ہو کر کس حد تک خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہ کہانی دو جنسی ہراسمنٹ
کا شکار ہوئے لوگوں کی ہے جن کا موزانہ کرتے ہوئے ہمیں یہ اندازہ لازمی ہوتا ہے کہ
کس طرح بہترین پرورش ایک انسان میں مثبت تبدیلی لاتی ہے اور انسان مظلوم سے ظالم اور
مظلوم سے ایک اچھا رول ماڈل کیسے بنتا ہے۔
یہ کہانی ہے۔۔۔ چڑیا کی ایک نازک سی زندگی
سے خوش رہنے والی لڑکی کی جس کا بچپن اس کی زندگی میں ہونیوالے ایک بھیانک واقعہ نے
نگل لیا۔
عکس مراد علی اپنے اوپر ہونے والے ظلم
کا انصاف لینے کے لئے کڑی محنت کر کے پہلے ڈاکٹر پھر اسسٹنٹ کمشنر بنی۔
یہ کہانی ہے شیر دل کی۔۔۔ جو اپنے خاندان
اور اپنے ضمیر میں سے اپنے ضمیر کی آواز سنتے ہوئے انصاف کی اور اپنی محبت کی بقا کے
لئے اپنا گھر قربان کرتا ہے۔یہ کہانی ہے خیردین حیسے بوڑھے انسان کی جو بتاتا ہے کہ ہر انسان کی زندگی
کے چند اصول ہوتے ہیں جن پہ عمل کرتے وہ کامیاب ہوتا ہے۔مگر کبھی بھی اپنے پہ کئے گئے
لوگوں کے احسان نہیں بھولتا۔ ایک نانا کا ایسا کردار جو سمجھنے والوں کو زندگی کے تمام
گن سکھا دے گا۔ یہ کہانی ہے شہر بانو کی۔۔۔ جس کے لئے اس کا باپ اور اس کا شوہر رول
ماڈل ہیں۔ مگر ایک قدرے جذباتی لڑکی جو جذبات میں آکر اپنی جنت سے خود نکلتی ہے۔
مختصراً
یہ کہانی ہے شطرنج کے کھیل کے ایسے مہروں کی جہاں کوئین کا راج ہوتا ہے مگر
کوئین کنگ کو بچانے کے لئے آخری حد تک جاتے ہوئے سر دھڑ کی بازی لگا دیتی ہے۔
یہ کہانی
پڑھ کر ایک اور احساس جو قارئین کو لازمی ہوگا وہ یہ ہے کہ کس طرح ایک سہارا آپ کو
پستی سے بلندی اور بلندی سے پستی پہ لا پھینکتا ہے۔ میرے لئے یہ کہانی ہے چند نامکمل
اور ادھورے لوگوں کی جو ایک ہو کر ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں!

Comments
Post a Comment