|Alif by Umera Ahmed| |Book Review by Qursam Fatima|


کتاب: الف

تحریر: عمیرہ احمد

تبصرہ: قُرسم فاطمہ

الف۔۔۔ا سے اللہ،ل سے لاء، ف سے فنا۔
الف سے ابتداء ہے اللہ کے پاک نام کی۔
الف سے آغاز ہے انسان کا، زندگی،بندگی،اسرار ،اُمید، محبت اور بقاء کا۔
الف ابتداء ہے عشق کی۔
الف سے انتہاء بھی ہے عشق کی۔!
اللہ کی ذات میں عشق کی منازل طے کرتے ہوئے فنا ہونا بھی صفت ہے الف کی!
الف سے اللہ۔۔۔الف سے انسان۔۔۔!
الف کی ابتداء اللہ۔
الف کی انتہاء انسان۔
الف سے ہے اللہ اور انسان کا تعلق۔الف سیدھا تو اللہ اور بندے کا تعلق بھی سیدھا۔الف ٹیڑھا تو اللہ اور بندے کا تعلق بھی ڈگمگاتا رہتا ہے۔

مصنفہ کا تعارف

مصنف کی ابتداء "میم" اور انتہا "ف" ہے۔میم سے محبت۔۔۔ف سے فنا! سوچ،لفظوں اور کرداروں سے محبت کرنا۔۔۔۔اور پھر اپنی سوچ کی کونپل پر پھلتے پھولتے کرداروں اور حالات و واقعات میں ڈوب کر اپنی ذات کو فنا کردینا۔۔۔!
پھولوں سے مزّین گلستانِ ادب ہے۔ مختلف طرز کے پھولوں میں ہر پھول کی اپنی الگ ہی رمز و مہک ہے۔گلشنِ ادب میں ادبی پھول کا لبادہ اوڑھے "محترمہ عمیرہ احمد" کی مثال ایسے خوشنما پھول سی ہے جو سب سے منفرد اور پُر بہار خوبصورتی سے چار سُو مہک رہا ہے۔جس کی مہک سے باغِ ادب پُررونق ہے۔جن کے قلم کی چاشنی سے ہر سُو اجالا ہے۔ عمیرہ احمد وہ نام ہے جو سحر زدہ کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ جن کے قلم سے نکلے الفاظ زندگی بخشنے کی قوت رکھتے ہیں۔وہ نام جو قرطاس پر بہتے کرداروں کو بھی امر کرنے کا فن رکھتا ہے۔

مرکزی خیال

الف عمیرہ احمد کی ایسی لاجواب اور منفرد تحریر ہے جس کا انتساب پڑھتے ہی قاری اس کے سحر میں ڈوب جاتا ہے۔اللہ نور ہے زمینوں اور آسمانوں کا مگر الف نے سکھایا کہ اللہ کے نور سے ایک عام انسان کس حد تک فیض یاب ہوسکتا ہے۔اللہ جس کے لیے چاہتا ہے ہدایت و نور کے دروازے کھول دیتا ہے مگر الف نے سکھایا کہ اس دروازے تک پہنچنے کے لیے انسان کو کونسا راستہ اختیار کرنا چاہئیے۔ الف کے تمام کردار زندگی کے مختلف مسائل میں گِھرے اپنی زنجیریں کھولتے ہوئے اللہ کی طرف سفر کرتے ہوئے نظر آئے۔ کسی کے لیے مال زحمت بنا تو کسی کے لیے اولاد۔ کوئی دوسروں کو زندگی بخشنے کے لیے لڑتا رہا تو کوئی اپنی ہی زندگی ختم کرنے کے لیے جدوجہد کرتا رہا۔ ذات کا سفر کرتے تمام کرداروں میں کوئی درویش بن گیا تو کسی کے مقدر میں مومن بننا قرار پایا۔


جہانِ الف

جہانِ الف میں داخل ہوتے ہی تمام کردار اپنی زندگی میں کسی خاص مقصد کے لیے جدوجہد کرتے نظر آئے۔ ناول کی ابتداء حُسنِ جہاں سے ہوئی جس کے کردار میں ہجر و فراق کا غم عیاں تھا۔ طحہٰ سے عشق کرنے والی، اپنی زندگی کے درد و غم خط میں لکھ کر بیان کرنے والی مجسمۂِ حُسن نے اپنی زندگی سے سکھایا کہ اللہ کی محبت و قرب حاصل کرنے کے لیے انسانوں کو سیڑھیاں نہیں بنانا چاہئیے۔ طوائف کے کوٹھے سے طحہٰ تک کا سفر کرتی حسنِ جہاں نے اپنی تمام عمر دوسروں کے لیے وقف کردی۔ وہ زندگی تو گزار رہی تھی مگر کبھی طحہٰ کے لیے تو کبھی مومن کے لیے۔۔۔اپنے لیے کبھی بھی کچھ بھی نہیں!
عبد العلیٰ کے کردار میں سادگی، عاجزی و انکساری اور محبت کا عنصر واضح تھا۔ عبد العلیٰ نے اپنی زندگی میں نیک انسان سے روحانیت کی گہرائیوں تک کا سفر کیا۔ کبھی طحہٰ کو معاف نہ کرنے پر شرمندہ نظر آئے تو کبھی قلبِ مومن کو راہِ ہدایت پر لانے کے لیے کوشاں رہے۔ رنگوں کی آمیزش کو محبت میں گوندھ کر اللہ کا نام لکھنے والے عبد العلیٰ نے محقق خطاطی کی تاریخ سے متعارف کروایا۔ اپنی زندگی سے یہ سبق دیا کہ اللہ کا نام لکھنے اور پڑھنے والوں کو یہ فخر و مان ہونا چاہئیے کہ اللہ اُن کے ساتھ ہے۔۔۔ہر پل،ہر لمحہ،ہر وقت!
طحہٰ عبد العلیٰ کے کردار میں پشیمانی کا عنصر واضح نمایاں تھا۔ معافی۔۔۔اُس خالقِ حقیقی سے جو غفور و رحیم ہے۔ اللہ کی محبت میں درویش بننے سے حُسنِ جہاں کے عشق میں گرفتار ہونے والے طحہٰ نے زندگی میں عشقِ حقیقی سے مجاز تک کا سفر کیا اور اپنی غلطی پر ندامت کے اشک بہاتے فنا ہوگیا۔
سلطان زندگی کے بے شمار مسائل میں گِھرا ایسا کردار جس کی محبت آخر تک لاحاصل رہی۔ وہ محبت تو کرتا تھا مگر اظہار نہیں اور جب اظہار کیا تو محبت کسی اور کی امانت بن گئی۔سلطان حُسنِ جہاں کی خاطر اپنی زندگی ختم کرتا رہا مگر قسمت کا سلطان کبھی نہ بن سکا۔
ماسٹر ابراہیم اس کہانی کا بے حد خوبصورت کردار۔ جو انسان بے شمار غلطیاں کرنے کے باوجود بھی راہِ حق کی مسافت اختیار کرلے تو کچھ شک نہیں کہ اللہ اُس کا ہاتھ تھام ہی لیتا ہے۔ ماسٹر ابراہیم نے عبدالعلیٰ کے شاگردی میں اپنی زندگی اللہ کے نام وقف کردی۔ طحہٰ کے بعد حسنِ جہاں کے قفیل بنے اور اس کی نیکیوں کو دنیا کے تمام خزانوں پر ترجیح دیا۔
مومنہ سلطان ناول کے ابتداء میں مرکزی کردار کی حیثیت سے رونما ہوئی۔ مومنہ نے اپنی تمام عمر محنت کرتے گزاردی۔ کبھی جہانگیر کی خاطر اپنے خواب پسِ پُشت ڈال کر انڈسٹری کا حصہ بنی تو کبھی فیصل کو ٹھکرا کر قرض کا بوجھ اتارتی رہی۔ مومنہ کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جو اپنی زندگی دوسروں کی خاطر وقف کردیتے ہیں۔۔۔جو سانس تو خود لیتے ہیں مگر اس پر حق دوسروں کا ہوتا ہے۔ رزق کو حلال بنانے کے لیے اس حد تک جاتی ہے کہ راستے میں آنے والا کوئی قلبِ مومن بھی اُسے حرام کی آمیزش میں نہیں ڈھال سکتا۔زندگی محنت کا صلہ دے دیتی ہے مگر اُس وقت تک انسان ہار جانے کا عادی ہوچکا ہوتا ہے۔ مومنہ کو بھی سب کچھ مل گیا، مال و دولت سے شہرت تک سب کچھ۔۔۔مگر دنیا کی تمنا اس نے کی ہی کب تھی؟ وہ تو دنیا چاہتی ہی نہیں تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ بڑی نعمت ہے دل کا دنیا میں نہ لگنا! قلبِ مومن کی فلم "الف" کے ستارے پر بھی مومنہ کا نام لکھا جاچکا تھا۔۔۔فلم کے ساتھ مومن کے دل پر بھی! وہ دونوں صیح اور غلط کی حد سے پار ایک نئے جہاں پر نئے سفر کا آغاز کرچکے تھے۔۔۔۔الف کا سفر!
زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان دنیا کی جھمیلوں میں کھو کر اللہ کو بھول جاتا ہے۔مگر ہدایت کے راستے سے بھٹکنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ کامیابی صرف اللہ ہی کی طرف ہے۔ انسان چاہے جتنا مرضی خودشناس کیوں نہ ہوجائے۔۔۔اس کی واپسی اللہ ہی کی طرف ہوتی ہے۔اور بے شک اللہ مومنین کے ساتھ ہے۔ اللہ کے نام خط لکھنے والے قلبِ مومن کا تعارف بھی ایک بھٹکے ہوئے انسان کے طور پر ہوا۔ فلم انڈسٹری کا نامور ڈائیریکٹر جس کے لیے شہرت و دولت کی بلندیوں پر پرواز کرنا اس دنیا کا سب سے آسان عمل تھا۔ مداح اس کو پوجتے۔۔۔انڈسٹری اس کے نام کا کلمہ پڑھتی کیونکہ وہ قلبِ مومن تھا۔۔۔اپنے نام کی طرح منفرد اور خوبصورت! مومن نے اپنی زندگی کی ابتدء میں اللہ سے بے حد محبت کی مگر زندگی میں آنے والی آزمائشیں اسے اللہ سے دور کرتی گئیں۔دادا کی مومن کو راہِ راست پر لانے کی دعائیں بلآخر قبولیت کا درجہ پاگئیں۔ سیدھا راستہ تو ہر انسان کے لیے ہے مگر اس راستے کی مسافت صرف وہی طے کرپاتا ہے جسے اللہ چُن لیتا ہے۔ بڑے نصیب والے ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں اللہ چُن لیتا ہے۔ اللہ نے مومن کو بھی چُن لیا تھا۔ الف کا راز جاننے کے لیے گلیمر پر مبنی فلمز بنانے والا روحانیت کی طرف چل پڑا۔مومن کے ماضی نے اسے گمراہ کیا تھا مگر سیدھا راستہ بھی ماضی کی گتھیاں سلجھانے کے بعد نظر آیا۔ وہ مومن بن کر "اللہ کا نور" تلاش کرنے اور اس کی راہ میں فنا ہونے کے لیے چل پڑا تھا۔

حرف آخر

الف کا سفر پایۂ تکمیل تک پہنچا اس پیغام کے ساتھ کہ انسان کی ابتداء و انتہاء صرف اللہ کے لیے ہے۔ کامیابی ہو یا آزمائش،وہ دونوں صورتوں میں اپنے بندے کو آزماتا ہے۔ الف کے کرداروں نے سکھایا کہ زندگی میں پُل صراط کے راستے پر کس طرح پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہئیے۔ہدایت کا جگنو ہر انسان کے پاس آکر جگمگاتا ہے مگر اس کی روشنائی صرف وہی حاصل کرسکتے ہیں جو الف کی حقیقت جان لیتے ہیں۔ الف سے اللہ۔۔۔الف سے انسان۔۔۔الف ہے زندگی۔۔الف ہے بندگی۔۔۔الف ہے فنا۔۔۔بس الف!

ختم شُد

Comments

Popular posts from this blog

|Drama Review by Qursam Fatima||Kahin Deep Jalay|| An overview of 11 episodes|

|Jo Tu Chahay| |An Overview of 17 episodes| |Review by Qursam Fatima|

|News Review by Quratulain| |Student Union|