|Raja Gidh by Bano Qudsia| |Book Review by Hajra Saeed|
کتاب: راجہ گدھ
مصنفہ: بانو قدسیہ
تبصرہ: حاجرہ سعید
ناول اپنے معاشرے اور زمانے کی روح کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔اردو
ادب کی تاریخ میں ’بانو قدسیہ‘ کا ناول ’راجہ
گدھ‘ ایسا شاہکار ہے جس کی تہہ در تہہ پرتیں قاری کے تجسس کو ہوا دیتی ہیں۔یہ ناول 1981 میں سنگ میل پبلی کیشنز نے شائع کیا اورتا
وقت تیس سے اوپر ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اس قدر مقبولیت کی وجہ وہ تشنگی بھری پر تجسس
فضا ہے جو قاری کے ذہن میں کھوج پیدا کرتی ہے۔
بانو قدسیہ صاحبہ کے نام سے کون واقف نہیں۔
اردو ادب کا چمکتا ہوا ستارہ ہیں۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں اردو ادب، فلسفہ، نفسیات،
معاشرت اور روحانیت کو موضوع بنایا ہے۔ بے
شمار ڈرامے لکھے ہیں۔ "آدھی بات" ان کا بہترین کلاسیک ڈرامہ مانا جاتا ہے۔ اردو ادب کی خدمت میں انہیں پاکستانی حکومت کی طرف
سے ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز اور دیگر ایوارڈز دیے گئے ہیں۔
راجہ گدھ ان کا مقبول ترین ناول ہے۔ جس
کا عنوان بانو آپا کو الہامی صورت میں واضح ہوا تھا۔ اس واقعے کا ذکر وہ اپنے ایک انٹرویو
میں کرتی ہیں۔ عوام الناس میں ان کی پہچان اسی ناول سے ہوئی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں اس
ناول کی کیا خصوصیات ہیں
انسان کو ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے دو راستے نظر آتے ہیں۔
حلال کا اور حرام کا۔ بدی جیت جائے تو انسان حرام پگ ڈنڈیوں پر لڑکھڑاتا رہتا ہے اور
اس کا انجام قابل رحم ہوتا ہے۔ نیکی فتح حاصل کرے تو حلال راستے پر گامزن انسان عرفان کو پہنچتا ہے۔ اس مرکزی خیال کو بانو
نے ”گدھ“ کے ساتھ منسلک کیا ہے۔ گدھ ایسا پرندہ ہے جو دوسروں کے رزق پر نظر رکھتا ہے
اور اس کی بھوک کی اشتہا ختم ہونے میں نہیں آتی۔ اسی طرح راہ راست سے بھٹکا ہوا انسان
کسی طور قرار حاصل نہیں کرپاتا۔
تجزیہ نگاروں کے نزدیک کسی بھی مصنف کی تخلیق اس سے پہلے موجود
قلمی شاہکاروں سے مستفید ہو کر نکلتی ہے۔ اس ضمن میں صوفی شاعر شیخ فرید الدین عطار
کی فارسی مثنوی ”منطق الطیر“ کو گدھ کا استعارہ استعمال کرنے کا موجد کہا جاسکتا ہے۔
یہ مثنوی سماوی سفر ناموں کی اہم کتب میں شمار ہوتی ہے۔ جس میں تیس پرندے ہدہد کی راہنمائی
میں علامتی طور پراپنی تلاش میں نکلتے ہیں اور سیمرغ سے ملاقات پر اپنی دریافت حاصل
کرتے ہیں۔دراصل گدھ کی تساہل پسندی اور مردار خوری کو عنوان بنا کر بانو آپا نے انسان
میں موجود ’بدی کی طرف رغبت‘ کو پرکھنے کا آلہ تھمایا ہے۔
ناول میں پاگل پن کی چار وجوہات بتائی
گئی ہیں۔
پہلی وجہ ’عشق لاحاصل‘ ہے۔ جو ایک خوبصورت
اور روشن خیال لڑکی ’سیمی‘ کو اپنے تن سے بے پرواہ کردیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے لیے خود کشی کو تریاق سمجھ کر
سینے سے لگا لیتی ہے۔
دوسری وجہ ’لامتناہی تجسس‘ ہے۔ جس کا شکار ہو کرانسان آسودگی
پانے کے لیے ہر وہ حربہ آزماتا ہے جو تمام حدود و قیود سے ماورا ہے۔اس کا شکار ناول
کا بنیادی کردار ’قیوم‘ ہے۔ جس کی روح کو کسی پل چین نصیب نہیں ہوتا۔
تیسری وجہ ’رزق حرام‘ ہے۔ جو انسان میں
سرایت کر کے اس کے اندر ایسی تبدیلی پیدا کرتا ہے کہ انسان جسمانی اور ذہنی طور پر
ناقص رہ جاتا ہے۔یہ سب سے اہم اور بنیادی وجہ ہے۔ جس کی بنا پر اس ناول کے چار ابواب
لکھے گئے۔ رزق حرام کے نقصان کو واضح کرنے کے لیے بانو نے دو کرداروں کی مثال دی۔ ایک
طوائف کی بیٹی "امتل" اور دوسرا قالین فروشوں کا بیٹا "افراہیم"۔
ان دونوں کو رزق حرام نے کس طرح نقصان پہنچایا، ناول پڑھ کر جانیں گے۔
چوتھی وجہ ’تلاش بے سود‘ہے۔ انسان کو موت
کی آگاہی حاصل ہے۔ اس موت سے بچنے کی بے سود تدبیریں کرتا ہے۔بانو آپا لکھتی ہیں:
وہ چھوٹی سی ناپائیدار زندگی میں ہمیشہ کی بقا چاہتا ہے۔ کیا اس
احساس کے ساتھ کوئی دیوانے پن سے بچ سکتا ہے؟
ایسے انسان معاشرے میں ’ایبنارمل اور سائیکو‘
کہلاتے ہیں۔ اور ناول کا ہر کردار آپ کو کسی نہ کسی حد تک دیوانگی کا شکار نظر آئے
گا۔
راجہ گدھ میں قاری کو مسائل غیر حل شدہ
نظر آئیں گے۔ کیونکہ بانو قدسیہ نے انسان کی عمیق فطرت کی الجھی ہوئی سچایؤں کو بیان کیا ہے۔ جن کو سلجاھنے
کے لیے انسان اپنی مدد آپ ہی کر سکتا ہے۔
یہ کتاب پڑھتے ہوئے آپ کا ذہن الجھے گا
کیونکہ بانو آپا نے چند ایسے موضوعات کو نوکِ قلم پر رکھاہے جو عام انسان کی سمجھ میں مشکل سے آتے ہیں۔ جیسے نروان حاصل کرنے کے لیے مختلف
اقسام کی یوگا، روحوں سے ملاقات کے طریقے وغیرہ۔ لیکن اسی طرح ذہن کی بند کھڑکیاں کھلتی
ہیں۔
بانو آپا نے’حلال و حرام‘ جیسے موضوع کو
بہترین اسلوب میں تحریر کیا ہے۔ یونیورسٹی لیول پر موجود مباحثوں کے ذریعے اس موضوع
کی طرف بڑھیں اوردیوانگی کی صورتیں بیان کردیں۔ ناول کی ساخت ایسی ہے کہ قاری عش عش
کر اٹھے۔
آخر میں مصنفہ نے قاری کو نا امید نہیں
چھوڑا۔ اس کے اندر نیکی کی طرف قدم بڑھانے کی شمع روشن کی ہے۔انھوں نے لکھا ہے
دیوانگی کی ایک اور جہت ہے، صرف ہم کو
اس کا ادراک نہیں۔ اور اس میں آپا کا اشارہ
فنا فی اللہ کی منازل کی طرف ہے۔ اسی
لیے اس کتاب کا انتساب ”قدرت اللہ شہاب“ کو کیا گیا ہے۔
اردو ادب سے لگاو رکھنے والوں کے لیے یہ
ناول فرحت اور آسودگی کا ذریعہ ہے۔
میں نے اس تبصرے میں ناول سمجھانے کی کوشش
کی ہے۔ کیونکہ میں چاہتی ہوں کم از کم ہر پاکستانی اس ناول کو پڑھے اور اپنے طور پر
سوچنا شروع کردے کہ وہ ذاتی مسائل میں الجھنے کی بجائے اخروی مسائل کو اہم جانے۔
آپ اس کتاب کو پڑھیے اور اپنے اندر کی
خامیوں کو نئے سرے سے دیکھیے۔ خود میں ایک بہتر انسان کی معرفت حاصل کیجیے۔
حاجرہ سعید


Comments
Post a Comment