|Novel Jaan by Shaheena Chanda Mehtab| |Book Review by Javeria Gill|
ناول کا نام:جان
مصنفہ: شاہینہ چندا مہتاب
تبصرہ نگار:جویریہ گل
قسم:رومانوی
مرکزی کردار: عائشہ اور شاداب خان آفریدی
محبت, محبت انسانی فطرت کا اہم جز۔۔۔
اکثر سمجھا جاتا ہے کہ بہترین اور حاصل
محبت ایک فطرتاً سمجھدار انسان کر سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں محبت کے آڑے آنے میں
بہت سی معاشرتی رکاوٹیں پیش آتی ہیں جو چاہ کر بھی دو لوگوں کو حلال رشتے میں
بندھنے نہیں دیتیں اور ان کی راہ میں روڑے
اٹکاتی رہتی ہیں۔ ایسی ہی ایک محبت کو بہت انوکھے انداز میں اپنے ناول
"جان" میں شاہینہ چندا مہتاب نے بیان کیا ہے۔
شاہینہ چندا مہتاب نے اپنے ناول میں
یہ بھی بتایا ہے کہ کس طرح خودساختہ معاشرتی لیبلز انسان کو کس حد تک نفسیاتی طور
پر کمزور اور بے بس کر دیتے ہیں۔اور انسان بھی اپنی خواہشات کے اوپر معاشرے کی سوچ
کو رکھ کر اپنی خواہشات کو مارتا رہتا ہے۔غرض یہ کہ نہ کبھی خود انسان سکون میں رہ
پاتا ہے نہ انہیں کچھ اپنے سکون میں رہنے دیتے ہیں۔"کچی عمر کی پکی
محبت" کس طرح معاشرتی پابندیاں سہتی ہوئی اپنے انجام کو پہنچتی ہے اسے بہت
انوکھے انداز میں ناول کو پیش کیا گیا ہے۔
مرکزی کردار
نا ول کے مرکزی کرداروں میں ایک شاداب خان, قبائلی خاندان سے تعلق رکھنے والا ایک لاپرواہ بچہ جو محبت کی تپش اور حاصل کی چاہ میں کٹھن راہ سے گزرتا ہوا فوج میں بھرتی ہوتا ہے .کچی عمر کی پکی محبت کے لئے پاپڑ بیلتے کس طرح راہِ راست سے بھٹکتا ہے اور منزل تک پہنچتا ہے یا نا کام ہوتا ہے اس ہی کشمکش کو بہت خوبصورت انداز سے مصنفہ نے اپنے ناول میں بیان کیا ہے۔ ناول کا دوسرا مرکزی کردار ہے عائشہ.... سماج کی چکی میں پستی ایک عورت جو معاشرے کی طرف سے دئیے گئے لیبلز کا کس طرح سامنا کر کے ایک خود مختیار عورت بنتی ہے اور اپنے مضبوط کردار سے شاداب اور دوسروں کو متاثر کر کے ان کی زندگی ایک نئے ڈگر پہ لے کر آتی ہے اس کا اندازہ آپ کو ناول پڑھ کر ہی ہوگا۔
نا ول کے مرکزی کرداروں میں ایک شاداب خان, قبائلی خاندان سے تعلق رکھنے والا ایک لاپرواہ بچہ جو محبت کی تپش اور حاصل کی چاہ میں کٹھن راہ سے گزرتا ہوا فوج میں بھرتی ہوتا ہے .کچی عمر کی پکی محبت کے لئے پاپڑ بیلتے کس طرح راہِ راست سے بھٹکتا ہے اور منزل تک پہنچتا ہے یا نا کام ہوتا ہے اس ہی کشمکش کو بہت خوبصورت انداز سے مصنفہ نے اپنے ناول میں بیان کیا ہے۔ ناول کا دوسرا مرکزی کردار ہے عائشہ.... سماج کی چکی میں پستی ایک عورت جو معاشرے کی طرف سے دئیے گئے لیبلز کا کس طرح سامنا کر کے ایک خود مختیار عورت بنتی ہے اور اپنے مضبوط کردار سے شاداب اور دوسروں کو متاثر کر کے ان کی زندگی ایک نئے ڈگر پہ لے کر آتی ہے اس کا اندازہ آپ کو ناول پڑھ کر ہی ہوگا۔
اسلوب
کہانی کو منفرد کرتے ہوئے کہانی میں
وقت کا دورانیہ لمبا دکھایا گیا ہے کیونکہ بچپن سے نوجوانی اور پھر جوانی کے دور
کی اونچ نیچ کی کہانی ہے۔ ناول کے درمیان میں کہانی کا پلاٹ تھوڑا کمزور ہو جاتا ہے اور اکثر قارئین اپنی
دلچسپی کم کر بیٹھتے ہیں۔مگر ہاف اینڈ کے فوراً بعد کہانی میں دلچسپ موڑ آتا ہے جو
ناول کو مزید سنسنی خیز بنا دیتا ہے۔ اس ناول میں مصنفہ نے بہت خوبصورتی سے یہ بات
بیان کی ہے کہ کس طرح بعض رشتے ہماری اخلاقی گراوٹ کا باعث بنتے ہیں۔ انسان بھی اپنی خواہشات کے
اوپر معاشرے کی سوچ کو رکھ کر اپنی خواہشات کو مارتا رہتا ہے. غرض یہ کہ نہ کبھی خود
انسان سکون میں رہ پاتا ہے نہ کچھ اپنے انہیں سکون میں رہنے دیتے ہیں. "کچی عمر
کی پکی محبت" کس طرح معاشرتی پابندیاں سہتی ہوئی اپنے انجام کو پہنچتی ہے اسے
بہت انوکھے انداز میں ناول میں پیش کیا گیا ہے۔ اپنے ناول میں مصنفہ نے بہت بہترین انداز میں بہت
باریکی سے ایک فوجی کا گھریلو نظام بیان کیا ہے کہ کس طرح گھر سے دوری ایک فوجی کی
ازدواجی زندگی کو متاثر کرتی ہے
میں اس ناول کو 6.5/10 ریٹ کرونگی۔

Comments
Post a Comment