|Book Review by Qursam Fatima| |Alif Allah Aur Insan by Qaisera Hayat|
ناول:الف اللہ اور
انسان
تحریر:قیصرہ حیات
تبصرہ نگار:قرسم
فاطمہ
الف اللہ اور انسان۔۔۔اللہ
اور انسان کے انتہائی قریبی مگر پُراسرار تعلق کےنام چار حصوں پر مشتمل طویل کہانی!
الف ابتداء ہے عشق
کی۔
الف سے انتہاء بھی
ہے عشق کی۔
اللہ کی ذات میں
عشق کی منازل طے کرتے ہوئے فنا ہونا بھی صفت ہے الف کی!
الف سے اللہ۔۔۔الف
سے انسان۔۔۔!
الف کی ابتداء اللہ۔
الف کی انتہاء انسان۔
الف سے ہے اللہ اور
انسان کا تعلق!
الف سے ہے الف اللہ
اور انسان!
لکھاری نے الہام سے سوچ کو ترتیب دیا۔۔۔سوچ کو کردار بنایا۔۔۔کرداروں نے داستاں سُنائی۔۔۔!
داستان ایسی جس میں فرشتوں کی رب سے ملاقات دکھائی گئی۔
یہ کہانی ان تمام سوالوں کے جوابات کا مجموعہ ہے جو ہر
انسان کے ذہنوں کو الجھاتے ہیں،دل کو مضطرب کرتے ہیں اور روح کو بے چین کرتے ہیں۔
کہانی کے پہلے حصے میں فرشتوں کو نوری مخلوق کا نام دے
کر ان کی رب سے ملاقات دکھائی گئی۔اللہ کی عدالت کو بڑی سرکار کا نام دیا گیا جو سب
سے برتر،سب کا مالک ہے۔
اس حصے میں بڑی سرکار
فرشتوں کو اپنی مخلوق سے آشنا کرواتی ہے اور اس مخلوق کو اپنا شاہکار کہہ کر اللہ نے
تمام نوری مخلوق کو مضطرب کردیا۔وہ مضطرب تھے کہ آخر کوئی اور مخلوق شاہکار کیسے ہوسکتی
ہے؟
اللہ نوری مخلوق
کو اس شاہکار کے اوصاف بیان کرتاہے مگر فرشتے کسی طور پر بھی کسی مخلوق کو شاہکار ماننے
پر رضامند نہیں۔۔۔بڑی سرکار کی جانب سے حکم صادر ہوتا ہے اور نوری مخلوق کا لیڈرسوالات
کرتا ہے۔۔۔بڑی سرکار انھیں بیان کرتی ہے کہ اس مخلوق کا دل ہوگا جس سے وہ خواہشات کرے
گا۔ دماغ ہوگا جس سے سوچے گا۔وہ عشق کرے گا جو اسے میرے تک لے آئے گا!عشق نے تمام نوری
مخلوق کو مزید مضطرب کردیا کہ کیسے خواہشات کا مارا ہوا انسان رب تک رسائی حاصل کرسکتا
ہے۔
ایک لمحے کے لئے
قاری کی سوچ بدل جاتی ہے۔وہ گماں کرنے لگتا ہے کہ کیا میں اس لفظ پر پورا اترتا ہوں۔۔۔خود
پر فخر بھی ہوتا ہے مگر ساتھ ہی افسوس بھی کہ کیا ہم ان خوبیوں پر پورا اترتے ہیں۔۔۔۔ان
تمام سوالات کا جواب حصہ چہارم میں پوشیدہ ہے۔۔۔
حصہ دوئم کے ابتدائیہ
میں مصنفہ نے سائنسی تحقیق سے تمام جسمانی اعضاء کو بیان کیا ہے اور انسان پر یہ راز
عیاں ہوگیا کہ وہ کس قدر پچیدہ ہے۔۔۔جیسا کہ اللہ نے فرمایا
بے شک ہم نے انسان
کو بہترین ساخت پر پیدا کیا
(4التین:)
کہانی کی ابتداء
ایسے کرداروں کے ساتھ ہوئی جن کے دل محبت میں گرفتار تھے۔ شہیر ایک خودغرض انسان کے
روپ میں سامنے آیا جسے ہر حال میں اپنی محبت زمل چاہیئے۔ شہیر زمل کی محبت میں گرفتار،زمل
ارسلان کی، روشنی شہیر کی۔۔۔اور یوں محبت کا سلسلہ جاری رہا۔
دوسری طرف نازنین
اپنی محبت باسط علی کے نہ ملنے کے سبب رب پر بھروسہ کرنا چھوڑ گئی۔باسط علی ضمیر کے
ہاتھوں مجبور کردار دکھایا گیا جو اپنی محبت پا لینے کے بعد دوسرے کی محبت کا چور بن گیا۔ باسط کے کردار نے سکھایا کہ
توبہ کا دروازہ ہر لمحے ہر انسان کے لیے کُھلا ہے۔ سچے دل سے توبہ کرنے والوں کو اللہ
بڑے مرتبے عطا کرتا ہے۔ باسط سے جڑا سائیں کا کردار انسان کو اپنے من میں جھانکنے پر
مجبور کرتاہے۔بقول اقبال:
اپنے من میں ڈوب کر پا
جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا
نہ بن،اپنا تو بن
شاہ ذیب قربتِ الہٰی
رکھنے والاشخص دکھایا گیا جو نازی اور باسط کی محبت کے درمیاں آگیا۔نازی کی بےوفائی
اس کے لئے ایسا امتحاں ثابت ہوئی کہ وہ اپنی زندگی سے ہار گیا۔۔۔شاہ ذیب کے کردار نے
سکھایا کہ کس طرح اللہ انساں پر آزمائشیں ڈال کر انہیں اپنا قرب عطا کرتا ہے!اس کی
ظاہری بینائی جانے پر اس کی
باطنی آنکھیں کھل گئیں۔
اس کے برعکس ایک سائنسدان
کی داستان بیان کی گئی جس کا تعلق سب سے پچیدہ اعضاء دماغ سے تھا۔ڈاکٹر دانش ایسا انسان
تھا جو اپنے آگے کسی کو ایک قدم بھی دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔اس نے اپنے غرور اور انا
میں اپنے سے جڑے ہر شخص کی زندگی کو تباہ کردیا۔ ڈاکٹر دانش سے جڑا اس کی بیوی فریحہ کا کردار تحریر کیا گیا جو انتہائی خداترس تھی اور اپنے معذور بیٹےعاصم کی یاد میں
ہزاروں بچوں کی خدمت کرتی رہی۔
دوسری طرف ایسے کردار
دکھائے گئےجن کی داستان پڑھتے پڑھتے انسان ان کرداروں کے ساتھ بے ساختہ کہہ اٹھتا ہے:
اللہ تونے ہمیں انسان کیوں
بنایا ہے۔اللہ کیا تو ہم سے پیارنہیں کرتا؟ یا اللہ! جب کسی کو ہماری ضرورت نہیں تو
ہمیں پیدا ہی کیوں کیا۔۔۔؟
ایسے ہی بےشمار سوالات
رانی اور شامو اللہ سے کرتے۔شامو ذلت اور پستی میں گِھرا ایک خواجہ سرا جس پر اللہ
کے بندوں نے رہنے کے لئے زمین تنگ کردی۔زندگی کو محبت اور عزت سے گزارنے کا خواہشمند
کردار جس کی زندگی ایک فقیرنی نے یہ کہہ کر بدل دی کہ ناچ گانے سے نہیں بلکہ عزت سے
پیسہ کما۔ ایک جملے نے شامو کو محنت کرنے پر مجبور کردیا مگر دوسری طرف وہ فقیرنی رانی
سے کوٹھے کی زینت رینا بیگم بن گئی۔اَن دیکھے راستے پر چلنے والی رانی اپنا خاندان
چھوڑ کر نگار بیگم کی قاتل بن کر کوٹھے پر راج کرنے لگی۔سچ سے منہ موڑے وہ اپنا انجام
بھول چکی تھی۔۔۔رینا سے جڑا اس کی ماں برکتے کا کردار دکھایا گیا۔جھگی میں رہنے والا
بھکاریوں کا خاندان جن کے پاس کھانے کو ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ایسے کرداروں
کو پڑھتے ہوئے بے ساختہ قاری اس سوچ میں ڈوب جاتا ہے کہ جب اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا
ہےہے تو کیوں ان انسانوں کی نہیں سنتا۔۔۔آخر ان کا قصور کیا ہے۔۔۔کیوں ایسے لوگوں کے
لئے زمین تنگ کردی جاتی ہے۔۔۔؟ ایسے انسانوں کو منظرِعام پر لا کر لکھاری نے یہ واضح
کردیا کہ اللہ تو بہت بڑا ہے مگر اللہ کے بندوں کے دل بڑے نہیں۔ بے شک اللہ انسان کو
آزماتا ہے۔۔۔۔۔۔!
کہانی کے تیسرے حصے
میں ہر کردار اپنے کیے گئے عمل کا ردِعمل دیکھتا ہے۔کچھ کردار اپنے اعمال پر شرمندہ
ہوتے ہیں جیسا کہ شہیر۔ کچھ کردار آخری وقت تک بھی اللہ سے شکوہ کرتے ہیں کہ آخر اس
نے سیدھی راہ کیوں نہ دکھائی جیسا کہ رینا۔نازی اور ڈاکٹر دانش جیسے کردار تاحیات پستی
کا سفر کرتے ہیں اور چاہتے ہوئے بھی ہدایت کا دامن تھامنے سے قاصر رہتے ہیں۔کچھ کردار
تاعمر بس رب کی رضا شاملِ حال رکھتے ہیں جیسے ماسٹر باسط اور شاہ ذیب۔
تیسرے حصے کے آخر
میں لکھاری نے قارئین کو اس موڑ پر کھڑا کردیا ہے کہ وہ بےساختہ اپنا محاسبہ کرنے پر
مجبور ہوجاتے ہیں کہ ہم کون ہیں؟کیا ہم نے زندگی میں کوئی اچھا کام کیا ہے؟ کیا ہم
اللہ کی رضا کو شاملِ حال رکھتے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں ؟ کیا ہم شاہکار ہیں۔۔۔؟ ایسے
سوالات پر انسان بس گہری خاموشی اختیار کرلیتا ہے۔
حصہ چہارم حصہ اول
میں مضطرب کرنے والے بے شمار سوالات و جوابات کا مجموعہ ہے۔اس حصے میں ایسے کردار سے
روشناس کروایا گیا جس کی زندگی کا محور سائنس سے جڑا تھا۔ایمان سے خالی ہر معجزے کو
سائنس کا نام دینے والا اسجد اس حقیقت کو ماننے سے عاری تھا کہ انسان کی لاش مرنے کے
بعد سلامت رہتی ہے۔مصنفہ نے یہاں ایک مرتبہ پھر سائنسی تحقیق سے ثابت کردیا کہ مرنے
کے بعد انسان کی لاش ۳۶۵ دن تک
آہستہ آہستہ مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی گل جاتی ہے اور قبر میں آرام پذیر انسان صرف
ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ جاتا ہے۔عقل اس تحقیق کو فوری تسلیم کرتی ہے مگر عشق نہیں!
عشق کہتا ہے:
محمد کے غلاموں کا کفن
میلا نہیں ہوتا
اللہ کے معجزات کی
ابتداء سے بہت پہلے سائنس کی آخری حد ہے۔ کہانی کے اس موڑ پر انسان کی سوچ وہم و گماں
میں مبتلا ہوجاتی ہے کہ ایسا کیونکر ممکن ہے ؟ ہم اللہ کے معجزات تسلیم تو کرتے ہیں
مگر کچھ لوگ اس کے آخر تک جاتے ہیں کہ ناممکن کو ممکن کیسے بنایا جاسکتا ہے؟
اللہ اور انسان کے
تعلق کو واضح کرنے کے لیے اسجد کی ملاقات صوفی بزرگ باسط علی سے کروائی گئی اور بالآخر
انسان کو اپنے تمام سوالات کا جواب مل جاتا ہے۔
اللہ کیا ہے،انسان
کیا ہے،اللہ نے انسان کو کیوں پیدا کیا،اللہ نے انسان کو آزمائش میں کیوں ڈالا،انسان
کیسے اللہ کا شکر ادا کرسکتا ہے،انسان کسی ایک بات پر مطمئن کیوں نہیں ہوتا،اللہ کا
عرفان کیا ہے۔اللہ انسان سے کیا چاہتا ہے،اللہ اور انسان کا تعلق کیا ہے۔۔۔؟اللہ اور
انسان کے آغاز میں"الف" کا کیا مطلب ہے؟ ایسے تمام سوالات جو ذہنوں کو الجھاتے
ہیں،جن کو عقل تسلیم تو کرتی ہے مگر یقین نہیں کرتی۔۔۔ مصنفہ قیصرہ حیات نے ایک ہی
جملے میں انسان کو اس کی حقیقت سے آشنا کروادیا کہ الف سے مراد اسرار اور امید ہے۔اللہ
اسرار ہے اور انسان بھی اسرار ہے۔اسرار نے اسرار کو تخلیق کیا۔انسان اپنے نفس کو مات
دے کر اللہ کے اسرار سے آشنائی حاصل کرلیتا ہے۔۔۔الف سے شروع ہونے والے اسرار کا تعلق
امید پر ختم ہوتا ہے!
اور بلآخر نوری مخلوق
انسان کے عشق کی انتہا دیکھ کر اللہ کے حضور سربسجود ہوجاتی ہے۔انسان کی تخلیق کا اسرار
ختم ہوتا ہے۔نوری مخلوق کہہ اٹھتی ہے کہ:ہم انسان کو آپ کا شاہکار مانتے ہیں۔اللہ کا
نور ہر سُو پھیل جاتا ہے۔حمد و ثنا کی تسبیح مزید بلند ہوتی ہے۔ ہر طرف سے صدائیں بلند
ہونے لگتی ہیں:
اللہ پاک ہے اور
اسی کی تعریف ہےاور اللہ بزرگ و برتر بہت ہی پاک ہے۔
Comments
Post a Comment