|امت کے ٹھیکیدار| |از قلم:سدرہ نسیم|



امت کے ٹھیکیدار

از قلم:سدرہ نسیم


جنرل قاسم سلیمانی جن کے نام سے پہلے نہیں تو اب تک بہت سے لوگ واقف ہو ہی چکے ہوں گے انھیں 3  جنوری 2020 کو ائیرپورٹ پر ایک امریکی حملے میں راہی عدم روانہ کردیا گیا۔ وہ تھے کون اور انکے پاکستان کے لیے کیا ایجنڈے تھے؟
  62 سالہ قاسم سلیمانی کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے واجبی سی تعلیم حاصل کر رکھی تھی مگر پاسداران انقلاب میں شمولیت کے بعد وہ بہت مشہور ہوگئے۔
  1980سے 1988 تک جاری رہنے والی ایران عراق جنگ میں انھوں نے اپنا نام بنایا اور جلد ہی سینیر کمانڈر بن گیے۔
   1988 میں قدس فورس کے کمانڈر بننے کے بعد بیرون ممالک میں کی جانے والی کاروائیو ں کے ذریعے انھوں نے مشرق وسطی میں ایران کا اثر ورسوخ 
بڑھانا  شروع کر دیا۔  
پاکستان کیلئے ان کے چند مخفی عزائم و افعال مندرجہ ذیل ہیں جن سے عیاں ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کیلیے چنداں مفید نہ تھے۔ جبکہ ہمارے پاکستانی حضرات بس دیکھا دیکھی میں انکی طرفداری میں مگن ہیں۔
قاسم سلیمانی راء کے ساتھ ملکر پاکستانی بلوچستان میں نیٹ ورک چلاتے رہے اور حکومت پاکستان کے شدید احتجاج کے بعد حکومت ایران نے یہ کہہ کر جان چھڑوائی کے میجر جنرل قاسم سلیمانی نے قیادت کو دھوکے میں رکھا۔ جبکہ اس وقت قاسم سلیمانی مسلکی عصبیت کے فروغ میں مشغول تھے۔
قاسم سلیمانی نے بشارالاسد جیسے خونی بھیڑئیے کا دفاع کیا اور ماضی میں امریکی حلیف رہے، افغانستان میں طالبان کے خلاف امریکی مفادات کا تحفظ کرتے رہے۔صدام حسین سمیت لاکھوں مسلمانوں کے خون کے ذمہ دار ہیں۔ اور اب بھی ایران سے کوئی پوچھے کے آپکا جنرل کسی دوسرے ملک میں کر کیا رہا تھا؟
مانا کہ مسلکی وابستگی آپکو مجبور کرتی ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں کے خون کو پانی کی طرح بہانے والے ایک جرنیل کو صرف اس بناء پہ پوجا جائے کہ وہ آج کل امریکہ مخالف بیانات دے رہےتھے۔ اور اگر کسی کو لگتا ہے کہ ایران بدلہ لے گا تو زرا بتائیے پاکستان سمیت کسی نے بھی آج تک امریکن ڈرون حملے کا بدلہ لیا؟
میجرجنرل کو ڈھونڈھنا اور پھر اٹیک کرنا اتناآسان نہیں ہوتا جب مفادات پورے ہوجاتے ہیں تو ایک ایسی لاش کی اشد ضرورت ہوتی ہہ جو جانبین سے مفادات کاتحفظ کرے اور اگلے دو تین سال تک کی فریقین کو اسٹریٹیجی کے نام پر عوام کو چونا لگانے کی مزید چھوٹ دے دے. اس لیے اس حملے کے پیچھے ایران اور پاکستان کی بھرپور مدد شامل ہے۔
یوں ہمارا انکے غم میں گھلنا یقینا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہم پاکستان یا امت سے زیادہ ان کے ساتھ ہیں جن سے ہماری عقیدت مسلکی ہے بس!
ایران سے لیکر افغانستان سعودیہ اور گلف انڈیا کے سٹریٹجک پارٹنر ہیں۔
ترکی اسرائیل کا بزنس پارٹنر ہے۔
اور ہم پاکستانیوں کو موبائل ہاتھ میں پکڑ کے جہاد سوجھ رہا ہے۔
افغانستان میں ڈالروں کے عوض 16 لاکھ افغانیوں کے خون کا سودا پاکستان نے کیا اور ایران نے شمالی اتحاد کے ذریعے امریکی مفاد کو مظبوط کیا۔
وقت آنے پر لوگ اپنا مفاد دیکھتے ہیں۔امہ کہاں ہے ہم  ریاستوں اور شاھیوں میں بٹے ہوے چند بکھرے ہوئےلوگ ہیں جن میں قدرے مشترک صرف عربی زبان کے چند کلمات ہیں۔ جب تک پاکستان کا مفاد تھا کشمیر فلسطین چیچنیا بوسنیا افغانستان میں اپنے جوان ہوتے لڑکے 1998 تک اعلانیہ 2004اور2005 تک چھپ چھپا کر خون میں نہلاتے رہے اور جب مفاد بدلے تو چہرے بھی بل گئے۔
ایران اپنے قومی و مذہبی نظریات سے مجبور و مغلوب ہو کر کعبہ پر جھنڈا لہرانا چاہتا ہے تو آل سعود کو اپنی داڑھی میں چھپا خلافت عثمانیہ سے بغاوت کا تنکا ستاتا رہتا ہے۔ اور اسے ڈر ہے کے کہیں مسلمان خوشحال ہو کہ حرم پاک کی خدمت کا اپنا مذہبی حق نا مانگ لیں اسلیے آل سعود پوری دنیا میں جاری جنگ و جدل میں اسرائیل و امریکہ کے پارٹنر ہیں۔۔۔
کبھی اسامہ کے ہاتھوں القاعدہ تشکیل دلاتے ہیں تو کبھی بغدادی کے ہاتھوں ISIS
 ان نام نہاد عربوں میں اگر اتنی غیرت ہوتی تو اپنے پڑوس میں فلسطین نا آزاد کرا لیتے۔۔۔
انکا بس چلے تو عجمیوں سے مذہب بھی چھین لیں لیکن کیا کریں تیل ختم ہوجانا ہے حاجیوں سے آمدن ختم نہیں ہونی۔اور ایران اپنی مسلکی عصبیت کو چار چاند  لگانےکے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں چھوڑتا۔
یعنی اس وقت کہ جب امت مسلمہ کو ایک ہونا چاہیے یہ امت کے ٹھیکیدار اپنے اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے جارہے ہیں اورہم ہیں کہ خاموش تماشائیوں کی مانند دانتوں میں انگلیاں دبائے حیران نگاہیں اطراف میں گھمارہے ہیں کہ اب آگے کیا ہوگا؟؟

سدرہ نسیم

Comments

Popular posts from this blog

|Drama Review by Qursam Fatima||Kahin Deep Jalay|| An overview of 11 episodes|

|Jo Tu Chahay| |An Overview of 17 episodes| |Review by Qursam Fatima|

|News Review by Quratulain| |Student Union|