|الف اللہ اور انسان از قیصرہ حیات| |تبصرہ نگار: حاجرہ سعید|



ناول: الف اللہ اور انسان

مصنفہ: قیصرہ حیات

تبصرہ نگار: حاجرہ سعید



تعارف:

انسان اپنی من چاہی منزل کے حصول میں درد سہتا ہے  تکلیف اٹھاتا ہے اور زخمی وجود سے منزل پر پہنچ کر سوچتا ہے وہ خوش کیوں نہیں ہے؟ اس کا جواب مصنفہ قیصرہ حیات نے مفصل اور حیران کن انداز میں دیا ہے۔ الف اللہ اور انسان پاپولر فکشن میں جداگانہ طرز کا حامل ناول ہے۔ یہ انسان کے 
شاہکار ہونے پر لکھا گیا ہے۔ قیصرہ حیات بہترین ناول نگار ہیں۔ اور اب ڈرامہ نگاری میں نام پیدا کررہی ہیں۔ ان کے بیشتر ناولوں کا موضوع انسان ہے۔ انسان … جو اللہ تعالیٰ کی سب سے پیچیدہ مخلوق ہے۔

مرکزی خیال:

الف اللہ اور انسان چار مختلف کہانیوں پر مشتمل ہے۔ ہر کہانی انسان کے چار اعضاء دل، آنکھ، دماغ اور پیٹ میں موجود خیر اور شر کو واضح کرتی ہے۔ ہر کہانی میں بہت سے کردار ہیں جو اپنی زندگی کے نشیب و فراز میں حاصل و محصول کا حساب لگاتے اپنے نقصان پر اللہ کے سامنے واویلا کرتے ہیں اور بہت کم ایسے ہیں جو شکر ادا کرتے ہیں۔
ناول کو چار ابواب پر تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے باب میں دربار شاہی میں انسان کی تخلیق کا منظر دکھایا گیا ہے اور آخری باب میں فرشتوں کو اس تخلیق کے شاہکار ہونے کا ٹھوس ثبوت دیا گیا ہے۔ درمیانی دو ابواب میں چار کہانیاں اپنے آغاز کے بعد نجام کو پہنچتی ہیں۔ قیصرہ حیات نے انتہائی مہارت سے ہر کہانی کی الگ فضا قائم رکھی ہے اور اسے بہترین انداز میں نبھایا ہے۔ وہ شاہانہ زندگی گزارنے والے ڈاکٹر دانش ہوں یا جھگی میں رہنے والی رانی، وہ صوفیانہ کلام پڑھ کر فضا کو سحر انگیز کرنے والا سائیں ہو یا یونیورسٹی میں پورٹریٹ بنانے والا شہیر، کرداروں کے مکالموں سے لے کر ان کی چال ڈھال کو بخوبی تراشا ہے۔

ناول کی خصوصیت:

ناول کی خصوصیت انواع و اقسام کی انسانی نفسیات ہیں۔ ایک جیسی ذہانت رکھنے والے اور ایک جیسی کامیابیاں سمیٹنے والے دو انسانوں کی زندگیاں کن وجوہات کی بنا پر مختلف گزرتی ہیں؟ تقدیر کا اور اپنے اعمال کا کتنا عمل دخل ہوتا ہے؟ اور کون سا انسان حقیقتاً خدا کا شاہکار کہلائے جانے کے لائق ہے؟ ایک تواتر سے ان سب سوالوں کے جواب ملتے جاتے ہیں۔
کہتے ہیں جہاں سائنس حیران ہو کر گھٹنے ٹیکتی ہے وہاں اسلام جواب لا کر سامنے رکھتا ہے۔ مصنفہ نے جسمانی اور روحانی پہلو کے اتار چڑھاؤ باریک بینی سے بیان کیے ہیں۔ چار اعضا کی سائنسی تحقیق بیان کر کے ان کی باطنی تحقیق کو کہانی بنا کر پیش کیا ہے۔ یہ ناول نگار کی اپنے موضوع پر گرفت اور اظہارِ خیال میں مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
مصنفہ کا مقصد انسان کو اس کے عرفان تک جانے کی ڈور تھمانا ہے۔ دل کی آنکھ رکھنے والے صوفی صاحب اور ظاہر پر یقین رکھنے والے ڈاکٹر اسجد کے مابین میں اپنا پسندیدہ مکالمہ یہاں لکھنا چاہوں گی

انسان اپنے اندر کے راز کو پالیتا ہے تو اسے قرار آنے لگتا ہے۔
کیسا راز؟
مٹی کا راز…… اور …… اس میں چھپے خزانوں اور اس در نایاب کا راز
وہ کیا ہے؟
اللہ کا عرفان
وہ کیسے ملتا ہے؟
اپنے آپ کو کھوجنے سے

یہ مکالمہ سب سے مختصر جملوں پر مشتمل ہے۔ ناول میں بہت مفصل اور بے دریغ لفظوں کے استعمال سے جملے موجود ہیں۔ جو بعض مقامات پر اضافی محسوس ہوتے ہیں لیکن ناول کی فضا کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں اور میں انہیں مصنفہ کا ٹریڈ مارک کہتی ہوں۔
ناول کی اتنی جہتیں ہیں کہ سب کو تبصرے میں قلمبند کرنا ناول کا خلاصہ لکھنے کے مترادف ہے۔ یہ ناول انسانی شخصیت کا سفر ہے۔ آپ اس سفر پر نکلیں اور اپنے دامن میں فہم و ادراک کے موتی بھرتے جائیں۔ آپ کے ذہن و دل پر بہت سی باتیں نقش ہوجائیں گی۔ بلاشبہ اس سفر کے اختتام پر آپ کی روح سیراب ہوگی۔


Comments

Popular posts from this blog

|Drama Review by Qursam Fatima||Kahin Deep Jalay|| An overview of 11 episodes|

|Jo Tu Chahay| |An Overview of 17 episodes| |Review by Qursam Fatima|

|News Review by Quratulain| |Student Union|