|زندگی کے بعد۔۔۔موت سے پہلے از قلم شکیل احمد چوہان| |تبصرہ نگار: قرسم فاطمہ|
مصنف: شکیل احمد چوہان
تبصرہ نگار: قرسم فاطمہ
مصنف کی ابتداء "میم" اور
انتہا "ف" ہے۔میم سے محبت۔۔۔ف سے فنا! سوچ،لفظوں اور کرداروں سے محبت
کرنا۔۔۔۔اور پھر اپنی سوچ کی کونپل پر پھلتے پھولتے کرداروں اور حالات و واقعات
میں ڈوب کر اپنی ذات کو فنا کردینا۔ محترم شکیل احمد چوہان کا شمار ایسے مصنفین
میں ہوتا ہے جو کرداروں کو ایک عام انسان کی مانند اس کی تمام تر خامیوں اور
خوبیوں سمیت قلمبند کرکے قارئین کے لیے اپنے کردار امر بنادیتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
پاکستان میں "دو" طرح کا ادب رائج ہے۔پہلا ادب برائے ادب،جو ہمارے
درسی نصاب میں پڑھایا جاتا ہے۔دوسرا ادب برائے اصلاح،جو پڑھایا نہیں جاتا مگر عوام
اُسے زیادہ پڑھتی ہے۔"زندگی کے بعد۔۔۔موت سے پہلے" ایسی دس تحاریر کا
مجموعۂِ حُسن ہے جو مصنف نے کرداروں میں اپنی ذات کو فنا کرکے قلمبند کیے
ہیں۔ابتدائیہ میں ادب کی تفریق کرنے والے مصنف نے زندگی اور موت کو فلسفی انداز
میں پیش کرکے ادب برائے اصلاح و نصاب کی منفرد راہیں ہموار کی ہیں۔ہر انسان کی
زندگی میں ایسا وقت ضرور آتا ہے جب وہ اپنی زندگی جی چکا ہوتا ہے اور موت اُس کی
دہلیز پر دستک دے رہی ہوتی ہے۔ زندگی بڑی ہی بے وفا ہے۔اس کا کوئی بھروسہ نہیں کہ
ہزار سالوں کے عہد و پیماں کے بعد کب اگلے ہی لمحے بے وفائی کر بیٹھے۔ اس بے وفا
کا کچھ معلوم نہیں کب سانس لینا چھوڑ دے جبکہ موت سے بڑھ کر وفا دار کوئی نہیں۔ جب
موت زندگی بخشتے وقت یہ باور کرواتی ہے کہ میں لوٹ کر ضرور آؤں گی تو وہ آجاتی
ہے۔موت اپنے عہد کی تکمیل کبھی لمحوں میں کرتی ہے تو کبھی سالوں میں۔اگر زندگی میں
کوئی قابلِ اعتبار ہے تو وہ صرف موت ہے جو کبھی ساتھ نہیں چھوڑتی۔۔۔جس کے آنے کا
خدشہ لمحہ بہ لمحہ انسان کے ساتھ رہتا ہے۔مگر یہ وفادار دوست ظلم کرنے میں بھی بے
مثال ہے۔موت کبھی تو زندگی سے پہلے آجاتی ہے اور کبھی زندگی کے بعد۔۔۔۔کسی کو تو
زندہ نہیں رہنے دیتی اور کسی کو مرنے ہی نہیں دیتی۔جو جینا چاہتا ہے اُسے لے جاتی
ہے۔۔۔جو جی چکا ہوتا ہے اُس کو مزید جینے پر مجبور کرتی ہے۔زندگی کے بعد اور موت
سے پہلے کا وقت ہر انسان پر آتا ہے اور ہر ایک کے لیے باعثِ اذیت ثابت ہوتا ہے۔
ف:
”ف“
فیصلے پر مبنی افسانہ۔فیصلہ اچھائی اور
برائی کا۔فیصلہ اپنی بقاء کا،عزت و پارسائی کا،حیا و بے حیائی کا۔۔۔فیصلہ اپنی
زندگی کے جینے کا! اس افسانے نے سکھایا کہ نفرت کفر سے کرنی چاہیئے،کافر سے
نہیں۔ایمان کی چادر اوڑھنے والوں کے سر سے گناہوں کی گٹھڑی خودبخود اتر جاتی ہے۔
فیصلہ کرتے وقت یہ یاد رکھنا چاہئیے کہ اس سے فرائض میں غفلت نہ برتی جائے۔صیح وقت
پر صیح فیصلہ کرنے والوں کو خدا فلک سے بلند مقام عطا فرماتا ہے۔یہ مقام اس وقت
نصیب ہوتا ہے جب انسان اپنی مرضی سے زندگی جی چکا ہوتا ہے اور آخری فیصلے کو فرض
سمجھ کر اس پر عمل کرتا ہے۔زندگی کے بعد اور موت سے پہلے کیے جانے والے ایسے فیصلے
تاحیات امر ہوجاتے ہیں۔
حرا کا حجاب:
”حرا کا حجاب“ حرا کی حیا اور پاکدامنی کی ایسی کہانی جس نے زندگی کے
چار سنہری اصولوں سے آشنا کروایا۔عورت کا پردہ اُس کی عزت و پاکدامنی کے ساتھ ساتھ
بعض اوقات اس کی غربت پر بھی پردہ ڈال دیتا ہے۔حرا کا حجاب بھی ہر دفعہ اس کی عزت
محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا۔
مولوی سلامو کا کچا کوٹھا:
”مولوی سلامو کا کچا کوٹھا“ ہمارے آجکل کے
مولویوں کی زندگی کے دکھ و مصائب کا احاطہ کرتی کہانی۔اللہ ایک،رسول ایک،قرآن ایک
مگر مولوی کبھی ایک نہیں ہوتے۔ایک دین کی پیروکاری کا حکم دیتے ہر مولوی کا نظریہ
دوسرے سے مختلف نظر آتا ہے۔ایک فرقے کا مولوی اپنی عمارت پکی کروانے کی تگ و دو
میں مصروف ہے جبکہ دوسرے فرقے کا کچا کوٹھا بارش کے پانی میں بہتا جارہا ہے۔ایک
دین کو مختلف نظریات میں بانٹنے والے مولویوں کے نفسیات کو مصنف نے بخوبی سمجھایا
ہے۔
مائی چیمی کا فیصلہ:
”مائی چیمی کا فیصلہ“ پنچائیت کے فیصلوں کی
کہانی جس نے سکھایا کہ بڑے فیصلے انسان کو کس طرح بڑا بنا دیتے ہیں۔زندگی میں ایک
لمحے میں کیے جانے والا غلط فیصلہ کس طرح اس فیصلے سے جڑے بے شمار انسانوں کی
زندگی تہہ و بالا کردیتا ہے۔اس لیے ایک منصف کو چاہئیے کہ فیصلہ کرتے وقت رشتوں کو
نہیں بلکہ حق و سچ کو ترجیح دے۔
دل کے قصے میں:
”دل کے قصے میں“ محبت کی بازی ہارنے اور
جیتنے والوں ایسی کہانی جس میں کوئی دوسروں کو دل ویران کرکے اپنی محبت پالیتے ہیں
تو کوئی دوسروں کی محبت کی پاسداری کرتے کرتے اپنی جان کی بازی بھی ہار جاتے ہیں۔
اکلوتا:
”اکلوتا“ انا،خود پرستی اور
خودغرضی سے گوندھے کردار کی کہانی جس کو اس کے اپنوں نے ہی فرعون بنایا اور انا کا
یہ پہاڑ آخری وقت تک اپنی بلندی پر فخر کرتا رہا۔مگر ایک وقت آتا ہے جب انسان کی
اولاد ہی اس کو حقیقی آئینہ دکھاتی ہے مگر اس وقت ظلم ڈھایا جاچکا ہوتا ہے۔۔۔زندگی
اپنے بت کو پوجتے پوجتے گزر چکی ہوتی ہے۔افسوس کے توبہ کی مہلت ملتے ہی بعض اوقات
زندگی کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔
جامین:
”جامین“جمال امین کی خوش قسمتی کی
کہانی۔جامین کی کہانی نے سکھایا کہ انجانے میں کیے جانے بعض فیصلے زندگی پر کس قدر
خوبصورتی سے اپنا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ نواب بن کر رہنے والوں کی روح پرواز کرنے پر
کبھی کبھار گھٹن میں رہنے والی پری کو زندگی کے بعد بھی زندگی میسر آجاتی ہے۔۔۔وہ
بھی اپنے جمال کے ساتھ!
تقریباً پونے گیارہ بجے:
”تقریباً پونے گیارہ بجے“ اس کتاب میں میرا
پسندیدہ افسانہ۔ حضرت داتا گنج بخش رح کے دربارِ اقدس کا احوال بے حد خوبصورت
انداز میں بیان کیا گیا ہے۔فرقہ واریت سے پاک بے شمار غلط عقائد پالنے والوں کو
انتہائی مثبت انداز میں جواب دیے گئے ہیں خواہ وہ لنگر پر تنقید کرنے والے ہوں یا
داتا کہنے پر اعتراض کرنے والے ہوں۔بے شک فقیر کے در سے لنگر ملتا ہے اور وقت کے
حکمرانوں کے در سے صرف دھکے۔ہم نماز پڑھتے وقت کسی داتا صاحب کا ادب نہیں
کرتے۔سجدہ صرف اور صرف اپنے حضور اور داتا صاحب کے اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ہم
درگاہوں پر آکر روتے ضرور ہیں مگر اللہ والوں کے چوکھٹ پر بیٹھ کر بھی اللہ سے ہی
مانگتے ہیں۔
زندگی کے بعد۔۔۔موت سے پہلے:
” زندگی کے بعد۔۔۔موت سے پہلے“ زندگی کو کبھی
خواب اور کبھی حقیقت بن کر گزارنے والی رمشا کی کہانی۔رمشا،محبت اور خواب میں خود
کو تلاش کرنے والی لڑکی جو کبھی اپنی محبت کے پیچھے بھاگتی ہے تو کبھی خوابوں
کے۔۔۔۔اور جب انسان کو زندگی میں سب کچھ مل جاتا ہے تو زندگی نہیں ملتی۔حاصل کی
دہلیز پر قدم رکھتے ہی انسان کو لاحاصل کے در پر پھٹک دیا جاتا ہے۔زندگی کو جینے
سے پہلے رمشا ایک بار پھر زندگی اور موت کے درمیانی راستے پر ٹھہر گئی
تھی۔۔۔۔زندگی کے بعد موت کی طرف جانے والا راستہ ہمیشہ ہی آسان ہوتا ہے۔
میم:
”میم“ اس کتاب کا آخری افسانہ جس کا مرکز "محبت" ہے۔میم سے
مہنگے داموں ملنے والی محبت اور مفت میں ملنے والی موت کے درمیان لڑکھڑاتے اور
سنبھلتے کرداروں کی کہانی جو امید پر زندگی کے بعد بھی زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ
امید تو رحمت کے بادلوں کی طرح کسی بھی وقت برس کر قسمت کو سرسبز و شاداب کرسکتی
ہے۔محرم سے محبت اور محبوب سے مختار تک "میم" کے کرداروں نے اپنی زندگی
کے فیصلے اللہ پر چھوڑ دیے جس کی مصلحت کے سبب محبت کا سفر "ملن" پر
پایۂ تکمیل پہنچا۔
ختم شد


Comments
Post a Comment