| ایک ترک خاندان| |مصنف: عرفان اورگا |
کتاب: ایک ترک خاندان
مصنف: عرفان اورگا
تبصرہ نگار: حاجرہ سعید
عرفان اورگا کی پہلی کتاب ایک ترک
خاندان ہے جو 1950ء میں منظر عام پر آئی۔
مصنف نے اسے انگریزی زبان میں لکھا۔ یہ ان کے خاندان کی کہانی ہے جسے تیس ابواب
میں بند کیا گیا ہے۔اس زندگی کی کہانی جو انہوں نے اپنے وطن میں حالتِ جنگ میں
گزاری۔ میں اس کتاب کا ایک جملے میں تعارف کروانا چاہوں تو کہوں گی:
آئیے دیکھیے ،کس طرح جنگیں روشن مقدر
کی تختی پر سیاہی پھیرتی ہیں!
مصنف کا تعارف:
ایک ترک خاندان کے مصنف ’’عرفان
اورگا‘‘ نے 1908ء میں ترکی کے شہر استنبول کے امیر خاندان میں آنکھ کھولی۔ عرفان
کا بچپن پہلی عالمی جنگ کے اثرات کی زد میں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ترک فوج
میں افسر بھرتی ہونے کا ارادہ کیا۔ اور وطن کو کامیاب ہواباز کے طور پر اپنی خدمات
پیش کیں۔
1947ء میں کچھ ناگزیر وجاوہات کی بنا پر وہ
برطانیہ چلے گئے اور اپنی زندگی کے آخری ایام وہیں گزارے۔جہاں ان کا ذریعہء معاش
کتب نگاری تھا۔ آئیے بڑھتے ہیں کتاب کی طرف۔
کتاب کا موضوع:
پہلی جنگ عظیم سے ہونے والی تباہی کے
اعداد و شمار آپ کو تاریخ کی کتابوں میں ملیں گے، تاریخ آپ کو یہ بھی بتائے گی کہ
کس ملک کے کتنے جوان جنگ میں کام آئے، لیکن ان جوانوں کے پیچھے رہ جانے والے
خاندان کس طرح اپنے پیروں پر کھڑے ہوئے؟ آیا کھڑے بھی ہوئے یا ڈگمگاتے رہے؟ یہ سب
باتیں تاریخ میں نہیں داستان میں ملتی ہیں۔ اس داستان میں جسے ’’پہلی جنگِ عظیم کے
بعد قلاش ہونے والے ایک امیر خاندان کی تکلیف دہ داستان‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایسا ہی
خاندان اس کتاب کا موضوع ہے۔
کتاب کا عنوان:
یورپی مبصرین نے اس کتاب کو عرفان
اورگا کی سوانح حیات کہا ہے۔ میں اسے سوانح حیات نہیں کہوں گی۔ اس میں مصنف نے
اپنی ساری زندگی قلم بند نہیں کی ۔ علاوہ ازیں کسی کی سوانح عمری کے طور پر کتاب
کا عنوان ’’ایک ترک خاندان‘‘ کشش نہیں رکھتا۔ اور مجھے اس کے مطالعے کے بعد محسوس
ہوا کہ اس سے بہتر عنوان اس کتاب کو نہیں دیا جاسکتا تھا۔کیونکہ یہ مصنف کے جدوجہد
کرتے ہوئے خاندان کو بیان کرتی ہے۔
کتاب کا اسلوب بیان:
منفرد آپ بیتی کے رنگ میں نہایت سادہ
الفاظ میں یہ کتاب لکھی گئی ہے۔ اندازِبیان قائل کرنے والا نہیں ہے۔ واقعات جیسے
رونما ہوئے ویسے لکھ دیے گئے۔ حتیٰ کہ ان پر مصنف نے اپنی رائے بھی نہیں دی۔ لیکن
تمام واقعات دردِ دل سے لکھے گئے ہیں۔ کتاب میں دلچسپی برقرا رکھنے کے لیے کوئی
آلہ استعمال نہیں کیا گیا۔ ایک سوندھی خوشبو والی سوگوار فضا ہے جو پڑھنے والے کو
لفظوں میں قید رکھتی ہے۔ آپ محسوس کرتے ہیں کہ ایک جھکے کندھوں والے شخص کے سامنے
بیٹھے ہیں۔ جو میز پر سے اپنی یاد داشت کے مختلف ٹکرے اکٹھے کر کے آپ کو سنا رہا
ہے۔ کہیں رلاتا ہے، کہیں ہنساتا ہے اور سپاٹ چہرہ لیے بیٹھا رہتا ہے۔
مصنف کو منظر نگاری پر ملکہ حاصل ہے۔
استنبول شہر کی ایسی خوب صورتی بیان کی ہے کہ آپ کا دل وہاں جانے کو ہمکنے لگے۔
اور بیسویں صدی کے ترکی کے ایک قدرے پس ماندہ علاقے ’’کوتاہیا‘‘ کا ایسا نقشہ
کھینچا ہے کہ آپ بلاوجہ اسے ناپسند کرنے لگ جائیں۔
عرفان اورگا اپنے گھر کی خواتین کے
بارے میں بتاتے ہوئے نرم اور شگفتہ انداز اپناتے ہیں۔ جو قاری کے لبوں پر تبسم
بکھیر دے۔مثال کے طور پر جب ان کی دادی کا بیش قیمت سامان نئے اور ناپسندیدہ مکان
میں لایا گیا تو وہ فوراََ اس کی طرف بڑھیں۔ ان کی چال کو مصنف نے ’’بالکل سیخ پا
کڑک مرغیوں کی طرح‘‘ کہہ کر بیان کیا ہے۔
مصنف نے اپنے دادا سے لے کر اپنے
اردلی تک، ہر کردار کو مہارت سے ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔ اُن کی وضع قطع، اُن کی
عادتیں اور اُن کے ساتھ بیتے واقعات من و عن لکھے ہیں۔
کتاب کی مقبولیت:
کتاب کی اشاعت کے ساتھ ہی اسے یورپ
میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے کئی ایڈیشنز شائع ہوئے۔
مصنف کی وفات کی دو دہایؤں بعد اس کتاب کے تراجم ترک، جرمن، اٹلی اور فرانسیسی
زبانوں میں کیے گئے۔ترکی میں اسے مختلف یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل کرلیا گیا۔
اس کا اردو ترجمہ 2011ء میں مہوری پبلیکیشنز نے شائع کیا۔ مترجم ’’وسیم بٹ‘‘ ہیں۔
جنہوں نے کمال مہارت سے مصنف کے اسلوب کو نبھایا ہے۔
کتاب کی انفرادیت:
ترک خاندان دیگر خود نوشتوں سے مختلف ہے۔ کیونکہ مطالعے کے
دوران آپ کو گمان ہوتا ہے کہ ایک پانچ سالہ ترک لڑکے کی زندگی پر ناول پڑھ رہے
ہیں۔ جو اپنے ارد گرد رونما ہونے والے واقعات کو حیرت انگیز یاد داشت میں محفوظ
رکھتا ہے۔یہ ایک مکمل ناول ہے ، نہ ہی مثالی آپ بیتی ۔ البتہ ایک خوب صورت آرمینی
لڑکی کی مکمل داستان محسوس ہوتی ہے جو تیرہ سال کی عمر میں دلہن بنی اوروقت سے
پہلے مر گئی۔
میرا پسندیدہ باب:
کتاب کے چھبیسویں باب میں ایک دلچسپ
واقعہ موجود ہے۔ جس پر مصنف کی دادی کا ردعمل مضحکہ خیز ہے۔ یہ باب میرا پسندیدہ
ہے کیونکہ اس میں کچھ غیر حقیقی اور کچھ غیر منطقی رونما ہوا تھا۔ تفصیلی واقعہ آپ
خود پڑھیے گا۔ البتہ دادی جان کے حوالے سے اس باب کے چند جملے یہاں لکھنا چاہوں گی:
جب وہ گھر پہنچا، اس کا رنگ ابھی تک
اڑا ہوا تھا۔اور اس جاں گسل مشقت پر شاباش ملنے کی بجائے میری دادی نے اتنی دیر سے
آنے پر اسے آڑے ہاتھوں لیا اور کہاکہ جتنی دیر اس نے لگائی تھی ، اس میں تو پورا
ڈھانچہ لایا جاسکتا تھا۔
یہ کتاب کیوں پڑھیں؟
اس کتاب کو پڑھنے کے لیے میں کئی
وجوہات دے سکتی ہوں۔ لیکن یہاں ان تین وجوہات کا ذکر کروں گی جو میں نے گہرے
مطالعے کے بعد اخذ کی ہیں۔
آپ کو اس کتاب
میں ’’شہاب نامہ‘‘ جیسی روحانی ترویج نہیں ملے گی۔ لیکن اس کتاب کو پڑھیں تا کہ آپ
کو معلوم ہوسکے اگر اپنی اولاد کے دل میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت نہیں ڈالیں
گے تو آپ کا مستقبل کس حد تک عبرت ناک ہوسکتا ہے۔
آپ مرد ہیں تو
اس کتاب کو پڑھیں ! تاکہ آپ محسوس کر سکیں کہ خاندان کی کفالت کی ذمہ داری اگر مرد
پوری نہ کرے تو عورت کیسی تپش میں جلتی ہے۔
آپ عورت ہیں تو
اس کتاب کو پڑھیں! تا کہ آپ جان سکیں کہ اللہ اور اس کے بندوں کی ناشکری آپ کی
زندگی کو کتنا بھیانک بنا سکتی ہے۔
کتاب کا اضافی پہلو:
مصنف نے اپنی کتاب میں کسی سیاسی جانب
داری کا اظہار نہیں کیا۔ اس میں آپ کو تاریخی واقعات نہیں ملیں گے۔ ترکی کی موجودہ
صورتِ حال کے تناظر میں اس کتاب کا مطالعہ مفید ہے۔ کیونکہ آپ کے دل میں ترکی کی
عالمِ اسلام میں اہمیت اس کے باشندوں کی قربانیوں کے بارے میں جان کر اجاگر ہوگی۔
فی زمانہ اپنے ارد گرد بکھرے چہرے
پڑھنے کا وقت شاید ہی کسی کے پاس ہے۔ لیکن اگر کوئی اپنا چہرہ خود پڑھنے کے لیے
پیش کرے تو گریز نہیں کرنا چاہیے۔اس کتاب میں پیش کردہ چہرہ آپ سے بہت کچھ کہنا
چاہتا ہے۔ مجھے یقین ہے آپ اس کے مطالعے سے اپنے طور پر مستفید ضرور ہوں گے۔
میں اس کتاب کے اردو ترجمے کو 8/10
دیتی ہوں۔
حاجرہ سعید

Nice👍
ReplyDelete