| Book Review by Kashaf Saleem| |Raja Gidh by Bano Qudsia|
کتاب: راجہ گدھ
مصنفہ: بانو قدسیہ
تبصرہ: کشف سلیم شاہد
منٹو کو پڑھا تھا تو الفاظ کی سچائی تیز برچھی کی طرح کاٹ گئی تھی ! ہم
ایسوں کو منٹو جیسے لکھاری اگر ایسا تیز دھار سچ پڑھوائیں گے تو ہم نے تو چلانا ہے
نا! ہم تو سچ سے نگاہیں چرا کر کہیں گے ہی کہ "اے لو! یہ تو خبطی ہے! بےباک لکھتا
ہے! بےلگام لکھتا ہے!
بانو قدسیہ کی کتاب "راجہ گدھ"
تحفہ ملی تھی۔ بہت عرصہ قبل! کسی ادبی رسالے میں اسکا ایک اقتباس پڑھا تھا۔۔
سیمی کا کف بند کرتا قیوم۔۔۔ اور ساتھ
میں کوئی فلسفہ تھا
پھر لوگوں سے سنا کہ بھئی یہ تو بیکار
کتاب ہے! یہ تو فلاں ہے۔۔ یہ ڈھمکاں!
مطالعہ کرنے کا ارادہ باندھا۔۔۔ شروع میں
دل باغی ہوا۔۔ دس بار خیال آیا یہیں روک دو! نہ پڑھو! الفاظ تھے یا نیم کے پتے!
صفحہ پلٹتی گئی۔۔۔ کڑواہٹ منہ میں گھلتی
گئی۔۔۔ صفحات پلٹتے رہے اور ایک وقت ایسا آیا کے بس! یا تو نگل دوں یا اُگل دوں!
معاشرے کے اتنے سچ بیان کردئیے۔۔۔ کڑواہٹ
سے بھر کے رکھ دی یہ کتاب مصنفہ نے! حد ہوتی ہے! میں نے کرواہٹ اگلنے کی نسبت، نگل
جانے میں عافیت جانی۔ کچھ کڑواہٹیں تاثیر
پہنچاتی ہیں! مرہم کا کام کرتی ہیں!
جھوٹی مٹھاس کے نقصان دہ اثر سے آلودہ
ہمارے جسموں کو ذیابیطس کے مریض کی طرح کڑواہٹ چاہئیے! تاکہ علاج ہو۔
اب لوگوں سے تو شاید یہ سچائیاں برداشت
نہیں ہوئیں جبھی انہوں نے الفاظ کی کڑواہٹ کو تھوک دیا۔۔ بول دیا! فتوی نافذ کردیا
کہ کتاب بیکار ہے
سچ ہر ایک کو کہاں راس آتا ہے۔۔۔!
تو خیر بات ہورہی تھی "راجہ گدھ" کی۔۔
حلال و حرام کے درمیاں پریشان ہمارے معاشرے
کی ۔۔۔
حلال کے لیئے سرگرداں اور حلال کی لذت
سے آشنا لوگوں کی کہانی ہے۔۔ حرام کی منفیت و نسل در نسل ان اثرات کی منتقلی کی کہانی
ہے! حاصل اور لاحاصل کی کہانی ہے۔۔
لاحاصل کے پیچھے زندگی تیاگ دینے والے
والوں کا احوال ہے۔۔۔ حرام کو اپنانے والوں کی داستاں ہے۔۔۔
محبت اور "چاہ" کی کہانی ہے۔
اپنے اپنے مدار میں گھومتے الیکٹرانز کا قصہ ہے۔۔۔ کسی نہ کسی مرکز اور کسی نہ کسی
نیوکلیس سے ہمیشہ کے لیئے جڑے ہوئے الیکٹرانز جیسے لوگ!
کسی نہ کسی "چاہ" کیلئے دیوانے
بنے لوگ!
سچائیوں کی گرد کو قالین کے نیچے دبا کے
اطمینان کا چولا پہنے لوگوں کی کہانی!
!خواہشات کی تکمیل کیلئے "حلال
" یا "حرام" میں سے کسی ایک کے انتخاب کا صبر آزما فیصلہ لینے والوں
کی کہانی ہے
آپکا قصہ ہے! میری داستان ہے!
غور کریں۔۔ ڈھونڈیں۔۔ آپ کون سے ہیں ان
میں؟
گو کہ الفاظ کڑوے تو ہونگے ۔۔۔
مگر آپ پر منحصر ہے! کڑواہٹ اگل کر، کتاب
و مصنفہ کی شان میں دو چار جملے منفی تبصرہ کرکے کوئی میٹھا سا۔۔۔ گدگداتا ہوا رومانوی
ناول اٹھا لیں ۔۔۔ ہیرو ہیروئین کی شادی کروا کے خوش ہوتے رہیں ۔۔۔ مٹھاس ہی مٹھاس۔۔۔ فیری لینڈ۔۔۔
یا اس کتاب کی کڑواہٹ نگل جائیں ہضم کرجائیں۔۔۔ حلق کڑوا ہوگا۔۔ مگر تاثیر ٹھنڈی ہوگی
۔
سچ سے آنکھیں چرانا چھوڑ دیں گے آپ! معاشرہ
پھولوں کی سیج نہیں لگے گا! اور سچائیوں کو قبول کرنا سیکھ لیں گے۔
وما علینا الا البلاغ ۔


Comments
Post a Comment