| Book Review by Javeria Gill | |Abnormal ki diary by Sabir Chaudary|


ب کا نام: ابنارمل کی ڈائریکتا
مصنف کا نام : صابر چوہدری
تجزیہ نگار: جویریہ گل

سول سرجن اور ماہرِ نفسیات صابر چوہدری  کی لکھی گئی یہ کتاب محبت کو جاننے والے تمام لوگوں کے لئے ایک بہترین تحفہ ہے۔اکیسویں صدی کا جدید انسان جو کبھی اپنے جذبات چھپانے کے لئے ماہرِ نفسیات سے بھاگتا ہے تو کبھی یہی انسان اپنا غم بانٹنے کے لئے ماہرِ نفسیات کے پاس جاتا ہے کیونکہ اُسے پتا ہے کہ یہی انسان مجھے سمجھ سکے گا۔ ہمارے اکثر غم اپنا غم اپنے تک رکھ کر خود کو ابنارمل کرنے والی تمام تر کوششوں کا سہرا اسی ایک بات کے سرے جاتا ہے کہ کوئی ہمیں سمجھ نہیں پارہا۔ ایسے ہی ایک انسان جاسم کی کہانی پہ لکھی گئی کتاب ہے یہ۔ جاسم اور جمیرا کی کہانی ۔جب جمیرا کی اچانک دھماکے میں ہوئی۔ موت کے بعد جاسم بدلے کی آگ بجھانے کے لئے طالبان سے متاثر ہوجاتا ہے  مگر جاسم کے والد برقت اسے ماہرِ نفسیات صابر چوہدری کے پاس لے کر آتے ہیں  جہاں  اپنے سیکشنز  مکمل کرنے کے بعد جاسم  مکمل صحت یاب ہو جاتا ہے۔
کہانیاں سننے والے اور کہانیوں کو مختلف پہلووں سے پرکھ کر اُسے سمجھنے والے لوگوں کے لئے لکھی گئی یہ کتاب جسے صابر چوہدری نے دکھی دلوں کے مرہم کے لئے لکھا ہے مگر یہ بھی بتایا ہے کہ درد میں کتنی طاقت ہوتی ہے۔ انسان کو انسان سے حیوان اور درندے سے انسان بنا دیتا ہے ۔ یہ درد ہی ہوتے ہیں جو انسان کو سب سہنے کی طاقت دے کر امر کر دیتے ہیں ۔استاد رومی نے فرمایا ہے کہ

"زخم وہ جگہ ہوتی ہے جہاں سے روشنی آپ کے اندر داخل ہوتی ہے۔"         

 ایسے ہی زخموں کے مارے لوگوں کے لئے ہے یہ کتاب جو بتاتی ہے کہ "جدائی جان نکال دیتی ہے۔" وہی جدائی ۔۔۔۔۔جس کو نہ ہم جیسٹیفائی کرسکتے ہیں نہ برداشت اور قبول۔ جدائی نام ہی ناماننے کا ہے ہم مان ہی نہیں سکتے کہ ہم اپنے محبوب سے جدا ہوسکتے ہیں۔محبت کرنے والا ہر انسان شعوری اور لاشعوری طور پہ جدائی کے ڈر کا شکار رہتا ہے۔دور کہیں لاشعور میں ہم چاہتے ہوئے اور نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے محبوب بندوں کے لئے واپسی کے تمام دروازے کھلے رکھتے ہِیں اس یقین کے ساتھ کہ واپسی کبھی بھی ممکن ہے۔ جدائی کو کوئی بھی محب ایکسپیٹنس کا لیبل نہیں پکڑاتا اور اسی کش مکش کا شکار ہوئے جاسم کی کہانی کو صابر چوہدری نے بہت اچھے انداز سے لکھا ہے کہ ہر پڑھنے والا اسے خود سے ریلیٹ کر سکتا ہے۔
اس کتاب کا سب سے اہم نقطہ ہے "انسانیت" !کس طرح ہم صرف اچھے رویے سے بھی دکھی انسانیت کی مدد کرسکتے ہیں۔اس صدی کے لوگوں  کا المیہ یہی ہے کہ ہم کسی کی سننے کو ہی تیار نہیں۔ بہت خوبصورتی سے صابر چوہدری نے اپنی اس کتاب میں کہا ہے کہ " درد درد ہوتا ہے۔ یہ میرا یا تمہارا نہیں ہوتا ۔یہ ہمارا ہوتا ہے۔"  ہم میں سے اکثر ابنارمل بلکل نارمل ہو جائیں گے جس دن انہیں یہ یقین ہوجائے گا کہ لوگ انہیں سمجھیں گے۔ سمجھانے سے پہلے ان کو سمجھ کر انہیں جج نہیں کریں گے۔ لاحاصل انسان سے کی گئی محبت انسان کو خاموش رہنا،برداشت کرنا اور صبر کرنا سیکھا دیتی ہے۔محبت کرتے ہوئے محبوب کی جدائی کے زہر کو چکھنے والے لوگ اکثر بعد میں آنے والوں کو اس زہر سے دور رہنے کی تلقین کرتے دیکھائی دیتے ہیں ۔مگر محبت آسمانی عطا ہے ہر کسی کو نہیں ہوتی نہ ہی ہر کسی کو نصیب ہوتی ہے  بلکہ یہ رزق کی طرح بٹتی ہے۔ اسی پہلو کو صابر چوہدری نے اپنی اس کتاب میں بہت احتیاط  سے بیان کیا ہے کہ:


کچھ محبتوں کا انجام "کس آف ڈیتھ" ہوتا ہے۔ ان کے نہ ہونے کی منتیں مانگتے ہیں ہونے کی نہیں۔"


جس طرح آج کل برائی لیس بندہ ڈھونڈنا ریت میں سوئی ڈھونڈنے جیسا ہے ویسے ہی محبت  کو حاصل کرنے والے لوگوں کو ڈھونڈنا ہے۔ لاکھ در بدلو جو مقدر میں نہیں وہ نہیں ملتا۔محبوب کے لئے کئی گئی تمام منتیں مرادیں رائیگاں چلی جاتی ہیں۔ مگر محبوب کو بھولنا انسانی اختیار میں نہیں اس کے لئے ہجرت ضروری ہوتی ہے۔ انسان خود کو سمیٹنے والے لوگ ڈھونڈتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کا محوب اسے سمیٹ لے۔ ایسے تمام انسان جو اپنا درد سمیٹنے کے لئے کسی کی تلاش میں ہیں اور ایسے تمام لوگ جو محبتوں کا صدقہ دیتے ہیں ان 
سب کے نام ہے صابر چوہدری کی یہ کتاب۔۔۔۔ابنارمل کی ڈائری۔



Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

|Drama Review by Qursam Fatima||Kahin Deep Jalay|| An overview of 11 episodes|

|Jo Tu Chahay| |An Overview of 17 episodes| |Review by Qursam Fatima|

|News Review by Quratulain| |Student Union|