|Book Review by Bushra Ayub Khan| |Rakaposhi Nagar by Mustansar Hussain Tarar|
کتاب: راکا پوشی نگر
مصنف: مستنصر حسین تارڑ
صنف: سفر نامہ
: بشریٰ ایوب خانتبصرہ نگار
صنف: سفر نامہ
: بشریٰ ایوب خانتبصرہ نگار
مستنصر حسین تارڑ سے کون واقف نہیں ؟ چھوٹے
ہوں یا بڑے سب ہی انہیں "چاچا جی" کے نام سے جانتے ہیں ۔۔ ویسے تو وہ ٹیلی
ویژن کا حصہ رہے لیکن ادبی حلقوں میں ان کی وجہ شہرت ان کے "سفر نامے" ہیں
۔۔۔ وہ سفر نامے جن سے ڈھیروں لوگوں نے ان جگہوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھا اور وہاں
جانے کے خواب سجائے۔۔۔ ان کا ہر سفر نامہ چاہے ہنزہ داستان ہو یا شمشال بے مثال، کے
ٹو کہانی ہو یا نانگا پربت۔۔۔اپنی مثال آپ ہے ۔۔ ایسے ہی ایک سفر نامے کی داستان میں
لائی ہوں
راکا پوشی اور وادئ نگر!
کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنےدلربا
انداز سے دل میں اتر کر اپنا آپ پڑھواتی اور لفظ لکھواتی ہیں. راکا پوشی کی یہ داستان
بھی ایسی ہی ایک کتاب ہے۔آغاز سے اختتام تک ہر منظر جیسے آنکھوں کے سامنے چل رہا ہو۔ مجھے بھی ایسا ہی محسوس ہوا.
جیسے میں بھی ان "سات سر پھروں" (بقول تارڑ سر) کے ساتھ پیر ودھائی سے بشام، فئیری میڈو، مناپن اور نگر کے راستوں پر
سفر کر رہی ہوں.. کہیں مزاح کہیں طنز اور کہیں اپنے تجربے کی پٹاری لیے "سر جی"
نے گھر بیٹھے صرف راکا پوشی کا دیدار نہیں کروایا بلکہ ان آنکھوں کو انتظار کی کیفیت
سونپ دی کہ کب وہاں جانا ہو اور میں بھی اپنے نقش پا وہاں رکھ سکوں۔برسین موٹل کے کمرے
میں کہیں مصنف کی بے اختیاری کہیں فئیری میڈو کی مقدس یاترا، کہیں اپنے ساتھیوں کی
دلچسپی بھری باتیں اور ایک بزرگ کی مانند
ان پر رعب۔۔۔سبھی کچھ جیسے دل پر چھپ گیا۔
اس میں کہیں ان کے ساتھیوں کی عقیدت دیکھی اور کبھی کہیں ان کے مابین
چلتی علمی گفتگو..
کہیں بزبان شاعری مجید امجد کے گلابوں
کا تعارف ہوا کہیں ابن انشاء کا تم میری ہو کا راگ سنا۔کہیں چٹانوں سے اٹکھیلیاں کرتا
کہیں راکا پوشی کو روشن کرتا اور کہیں رومان پرور روحوں کو مدہوش کرتا چودھویں کا چاند۔اور
ان سب کے علاوہ جس نے دل کو غم سے بھر دیا وہ نانگا پربت پر بہہ جانے والا ناکردہ گناہوں
کا خون تھا.. ان جنونی سیاحوں کا خون جو پہاڑوں کی محبت میں اپنے دیس سے کئی سو میل
دور آئے تھے.. خالی ہاتھ کسی پھول کا کفن لیے!
اس کے ساتھ ہی اس پرفسوں سفر کا اختتام
ہوا وہ سفر جس کے سحر میں ناجانے کتنے عرصے تک میں رہنے والی ہوں۔ بلاشبہ ایک شاہکار
سفر نامہ تھا۔ آنکھوں کو خواب اور دل میں امنگیں بھر دینے والا سفر!
الوداع راکا پوشی۔۔۔ الوداع نگر!
آج تنہائی کسی ہمدم دیریں کی طرح
کرنے آئی ہے میری ساقی گری شام ڈھلے
منتظر ہیں ہم دونوں کہ آفتاب ابھرے
اور جھلکنے لگے ترا عکس ہر سائے تلے

Comments
Post a Comment