| انسان نما درندے | | سدرہ نسیم | | بچوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوے واقعات پر تجزیہ |


انسان نما درندے

تحریر: سدرہ نسیم


آئے روز بچوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوے واقعات پر انسانیت نوحہ کناں ہے۔جب بھی ایسی خبر سننے کو ملتی ہے دل یکلخت ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے۔آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔کہ یا خدا یہ ماجرا کیا ہے؟ کیا ایک اسلامی ملک کے شہری ایک خدا کو ماننے والے پیارے نبی ﷺ کے پیروکار ایسی گھناونی حرکت کر سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں ایسے لوگ جو اس جرم کے مرتکب ہوتے ہیں وہ مسلمان تو کیا انسان کہلانے کے بھی روادار نہیں ہیں۔پہلے قصور کی زینب کا واقعہ سامنے آیا سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلائے گئے۔ معصوم زینب کو انصاف دلانے کے لیےتمام قوم متحد ہوگئ مگر بے سود کیونکہ اس کے بعد ان واقعات میں مزید اضافہ ہوا کہیں ننھی فرشتے کو مسلا گیا تو کہیں کوی معصوم پھول اپنی زندگی ان درندوں کے ہاتھوں ہار بیٹھا۔ان واقعات میں آئے روز اضافہ بحیثیت قوم ہمارے اخلاقی زوال کا منہ بولتا ثبوت ھے۔ان میں تواتر کے پائے جانے سے یوں لگتا ہے ہم تباہی کے دہانے پرکھڑے ہو کر عذاب الٰہی کو خود دعوت دے رہے ہیں۔ذرا سوچیں کہ ان درندوں کو ذرا بھی ترس نہیں آتا رحم نہیں آتا ان کلیوں پر کہ جن کی آنکھوں میں چمکتے جگنو انکی مقدس مسکان یہ نوچ ڈالتے ہیں؟یا ان ماں باپ پر کہ جنکا کل سرمایہ ہی یہ بچے ہوں؟ وہ ماں باپ کہ جو بچے کی آمد کی نوید سنتے ہی خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں۔آنکھوں میں کئی خواب بننے لگتے ہیں۔پھر بچے کی پیدائش پر اسکی معصوم فرشتوں جیسی کھلکھلاہٹوں پر اسکی قلقاریوں پر پھر اسکے قدم قدم چلنے پر اسکی توتلاہٹ پر صدقے واری جاتے ہیں۔پھر اسکو بصد شوق سکول چھوڑنے جانا دنیا جہان کے قصے سننا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور پھر ایک دن اپنے جگر گوشوں کی لاش کہ جو کسی وحشی درندے کے ہاتھوں نوچی گئ ہوتی ہے۔ تعجب ہے ہمارے  حکمرانوں پر کہ جو  اقتدار کی ہوس میں اندھے ہوکر خواب غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ان کی بے حسی دیکھ کر میرا ذہن صدیوں پیچھے چلا جاتا ہے کہ جب حضرت عمر بن عبد العزیز کو خلیفہ بنایا گیا تو وہ خود سے مخاطب ہو کر  کہنے لگے کہ اے عمر! اگر تیری حکومت میں دریا کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مرگیا تو روز قیامت تجھ سے جواب طلبی ہوگی۔اور پھر چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا کہ انکی حکومت کس قدر کامیاب ٹھہری۔اور ایک ہمارا حکمران طبقہ کہ جن کے دور حکومت میں جیتے جاگتے انسان موت کے گھاٹ اتار دیے جاتے ہیں اور انھیں چنداں فکر نہیں۔انکے ماتھے پر شکن تک نہیں آتی۔ایک محتاط اندازے کے مطابق 76 فیصد ایسے واقعات دیہاتوں میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔اور اکثر ان واقعات میں قریبی عزیز یا ہمساۓ ملوث ہوتے ہیں۔دیہاتوں میں چونکہ سماجی دباو زیادہ ہوتا ہے سو ماں باپ مجرم کو معاف کردیتے ہیں یوں ماں باپ کی خاموشی مجرم کے حق میں جاتی ہے اور وہ کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ جدید تر تفشیشی مراکز قائم کرے اور ان مجرموں کو عبرتناک انداز میں پھانسی کی سزا دی جائے تاکہ کسی ماں کے لعل یا کسی باپ کی شہزادی کو یوں مسلا نہ جاسکے۔اور اس سلسلے میں والدین پر بھی ایک اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہرگز کسی اجنبی پر بھروسہ کرتے ہوے بچے اسکے حوالے نہ کریں۔اور بچوں کو بھی یہ بات گھٹی میں پلادیں کہ کسی بھی شخص کو چاہے وہ قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو اپنے ساتھ زیادہ میلان رکھنے کی صورت میں والدین کو مطلع کریں ۔ کیونکہ آج کا انسان بھیڑیا بن چکا ہے وہ انسان جسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا درندوں سے بھی بدتر ہوچکا ہے۔سو اپنے پھولوں کو اور مسلے جانے سے بچائیں اور انکی ہر ممکن حفاظت کریں۔

ختم شد

Comments

  1. Well elaborated Sidra��
    Don't know where the hell we are going��May Allah save us.Ameen

    ReplyDelete
  2. An excellent article , fell in tears after reading article. It's a big issue of present erra and should discuss on open forums to educate parents and children's.

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

|Drama Review by Qursam Fatima||Kahin Deep Jalay|| An overview of 11 episodes|

|Jo Tu Chahay| |An Overview of 17 episodes| |Review by Qursam Fatima|

|News Review by Quratulain| |Student Union|