|دو قومیں دو نظریے| |رمشا خان کی نظر میں|
حکومت پاکستان نے بابا گرونانک کے پانچ
سو پچاسویں جنم دن پہ کرتار پور بارڈر کو سکھوں کی مذہبی رسومات کے لیے کھول دیا۔
(نومبر ٢٠١٩)
بھارتی پارلیمنٹ میں شہریت میں ترمیم کا
بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
بھارتی شہر آسام میں مسلمانوں
کی شہریت معطل کر دی گئی
(دسمبر ٢٠١٩)
دو قومیں دو نظریے
بھارت کے مسلمانوں میں آجکل بےچینی کی لہر پائی جاتی
ہے۔ مختلف شہروں میں شہریت کے قانون میں ترمیم کے خلاف مظاہرے اور پھر بھارتی پولیس
کی جانب سے مظاہرین پر تشدد کی خبریں آئے روز دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ مسلمان اپنے حقوق
کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں اور اس کام میں کچھ باشعور ہندو شہری جو اپنے سیکولر بھارت
کا تاثر قائم رکھنا چاہتے ہیں وہ بھی ان کا ساتھ دے رہے ہیں اور اس عوامی ردعمل کو
حکومت کی طرف سے ہر سطح پہ دبانے کی بھی کوششیں جاری ہیں۔ ہندو مسلم نفرت کی بنیاد ہندوستان میں صدیوں پہلے
رکھی گئی تھی مگر اب ایک انتہا پسند ہندو جماعت کے برسر اقتدار آنے سے یہ اس قدر زور
پکڑنے لگی ہے کہ اب عالمی سطح پہ سیکولر بھارت کا چہرہ بری طرح مسخ ہونا شروع ہو گیا
ہے۔ انتہا پسند ہندووں کی مسلمانوں سے نفرت کوئی انہونی یا ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے یہ
سالوں سے پنپ رہی ہے اور سب سے پہلے قائد اعظم محمد علی جناح کو اس صورتحال کا اندازہ
ہوا تھا جب ہی انھوں نے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد وطن کا مطالبہ کیا۔
محمد علی جناح جو پیشے کے اعتبار سے وکیل
تھے جن کے پاس مستقبل کا علم تو نہ تھا مگر وہ دور اندیشی اور بصیرت تھی جس کی وجہ
سے انھوں نے چند بنیادی اختلافات کی بنا پہ ایک واضح موقف پیش کیا اور پھر برصضیر کے
مسلمانوں نے قائد اعظم کی قیادت میں ایک طویل جدوجہد کی اور اپنا الگ وطن حاصل کر لیا۔
اس تمام جدوجہد کی بنیاد دو قومی نظریہ تھا۔
کسی بھی قوم کے نظریے میں اس کے بنیادی مذہبی عقائد، تہذیب، رسوم و رواج اور
مقصد حیات شامل ہوتے ہیں۔ دو قومی نظریے سے مراد برصغیر میں ہندو اور مسلم دو الگ الگ
قومیں ہیں، یہ دونوں قومیں سیکڑوں سال سے ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہی ہیں لیکن ان کے
رسوم و رواج ، مذہبی روایات سب ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ ہمارا اسلامی معاشرہ اللہ تعالیٰ
کے وضع کردہ اصولوں اور احکامات سے مزین ہے جس کے مطابق عدل و انصاف، حقوق العباد،
مساوات، اخوت اور بھائی چارہ معاشرے کی بنیادی ضرورت ہیں جبکہ ہندو مذہب اور قوم کے
عقائد اس سے یکسر مختلف ہیں۔ قائد اعظم کو کانگریس اور ہندووں کے رویے نے بہت پہلے
ہی یہ باور کروا دیا تھا کہ دو ایسی قومیں جن کے نظریات، مذہبی عقائد ایک دوسرے سے
مختلف ہوں وہ ایک ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں۔ ہندووں کو جب موقع ملے گا وہ مسلمانوں کے
حقوق سلب کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے ان کے لیے مسلمان ہمیشہ ناقابل برداشت ہی رہیں
گے اور آج ہندوستان میں برپا ہندو مسلم فسادات، مسلمانوں کا قتل، بابری مسجد واقعہ
پھر عدالت کی طرف سے اس کا فیصلہ، آسام میں مسلمانوں کی شہریت منسوخی اور شہریت کے
قانون میں مسلم مخالف ترمیم قائد اعظم کے ہر خدشے کو درست ثابت کر رہے ہیں۔
قائد کی دوراندیشی اور جدوجہد کی بدولت
آج ہم اپنے آزاد ملک میں اپنے بنیادی عقائد پہ آزادانہ زندگیاں گزار رہے ہیں جبکہ اس
تقسیم کو غلطی کہنے والے مسلمان جو صدیوں سے ہندوستان میں رہائش پذیر ہیں آج بھی وہاں
تیسرے درجے کے شہری ہیں۔ آج بھی ان کی حب الوطنی پہ شک کیا جاتا ہے اور وہ انتہاپسند
ہندووں کو اپنی محب وطنی کا یقین دلا رہے ہیں۔ جبکہ قائد کے پاکستان میں پچھلے دنوں
مذہبی آزادی اور مذہبی رواداری کی بنیاد پہ سکھ مذہب کے لوگوں کے لیے کرتارپور بارڈر
کھولا گیا اور دنیا بھر بشمول بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کو کھلے دل سے خوش آمدید
کہا گیا۔ گویا مسلمان اور ہندو دونوں قوموں کا فرق آج بھی دنیا کے سامنے واضح ہے اور
یہ فرق ہمیشہ قائم رہے گا۔ قائد اعظم کی عظیم
جدوجہد کو سلام کہ انھوں نے ہمیں ایک آزاد اسلامی مملکت کا تحفہ دیا۔ اب ضرورت اس امر
کی ہے کہ ہم بحیثیت قوم اس تحفے کی قدر کریں اور اس کی ترقی کے لیے نیک نیتی سے کوشش
کریں کیونکہ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔
اللہ پاک قائد اعظم محمد علی جناح کو اس
عظیم احسان پہ اگلے جہان میں عظیم اجر عطا فرمائیں۔ آمین
پاکستان زندہ باد

Well Said! 👍
ReplyDeleteواہ
ReplyDeletewell said💟
ReplyDelete👍
ReplyDeleteOn point 🖒
ReplyDeleteWell said👍👍
ReplyDeleteThank u for posting:)
ReplyDeleteZabrdast.. Rimsha you did an excellent job
ReplyDeleteRegards Ayesha Shahzad
Thanks:)
DeleteAwsome 👍
ReplyDeleteآپ کے الفاظ کا چناٶ بہت زبردست ہے۔ اور ابتداٸیہ سے لے کر اختتامیہ بھی بہت اچھا ہے۔ ماشا۶اللہ
ReplyDeleteلیکن رمشا ایک بات کا دھیان رکھیں کہ آپ آخر تک اپنے مٶقف عنوان سے نہ ہٹیں۔ مراد یہ کہ اگر دو قومی نظریہ عنوان ہے تو آخر تک اس عنوان کا تاثر رہنا چاہیے۔ باقی بہت اچھا لکھا ہے۔
اللہ زور قم میں اضافہ کرے آمین