|ماموں ملال| |تبصرہ| |حاجره سعيد|

کتاب:ماموں ملال
مصنفمحمد ضیاء اللہ محسن
تبصرہ:حاجره سعيد


بچے من کے سچے ہوتے ہیں۔ بڑے ہوکر وہ مختلف رنگوں میں رنگ جاتے ہیں۔ ان پر سچائی کا رنگ غالب رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی پرورش شفاف ماحول میں کی جائے۔ ایسے ہی مقصد کو پورا کرتی ہوئی کتاب ہے یہ۔ جو ننھے ذہنوں کی نشونما کے لیے دلچسپ اور خوب صورت کہانیوں کا مجموعہ ہے۔

:کتاب کے مصنف کے بارے میں
بچوں کے لیے دلچسپ کردار ’’ماموں ملال‘‘ تخلیق کرنے والے نوجوان مصنف ہیں ’’محمد ضیاء اللہ محسن‘‘۔ انھوں نے ساہیوال کے ایک متوسط گھرانے میں آنکھ کھولی اور بچپن سے ہی خود کو کہانیاں سنتے اور پڑھتے پایا۔ انھوں نے اپنے لکھنے کا آغاز اشتیاق احمد مرحوم کی زیر ادارت شائع ہونے والا ہفت روزہ رسالہ ’’بچوں کا اسلام‘‘ سے کیا۔ان کے قلم سے صرف کہانیاں ہی نہیں بلکہ بچوں کے لیے نظمیں بھی جاری ہوئیں۔ جن کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ تیسری جماعت کے اردو کے سلیبس میں ان کی نظم جلوہ گر ہے۔انھوں نے بچوں کے علاوہ بڑوں کے لیے بھی لکھا۔ اور ان کی تحریریں دل پر دستک دیتی ہیں۔ انھوں نے اپنے ادبی سفر میں ترقی کی منازل طے کیں۔اور آج عمیرہ احمد کی زیر سرپرستی شائع ہونے والے بچوں کے منفرد اور مایہ ناز میگزین ’’الف نگر‘‘ کے مدیر کے طور پر ادب اطفال کی خدمت سے وابستہ ہیں۔
:کتاب کا تعارف
2010 ؁ء میں بچوں کے مزاحیہ کردار ’’ماموں ملال‘‘ نے پہلی دفعہ ادب اطفال میں جھانکا۔ یہ کہانی بچوں کا اسلام میں شائع ہوئی تھی۔ماموں ملال کو اندازہ ہوا کہ اس دنیا میں بچوں کے بہت سے چچا انہیں ہنسانے کے ساتھ اچھی باتیں سکھانے کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔ سو 2012 ؁ء میں ماہنامہ ذوق و شوق میں ماموں ملال نے اپنی جگہ بنائی۔ ان کی کہانیوں کو پذیرائی ملی۔نتیجتہََ فروری 2017 ؁ء میں ان کا مجموعہ منظر عام پر آیا۔ جسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔’’ماموں ملال‘‘ کی سولہ کہانیاں اس کتاب میں موجود ہیں۔ ’’ماموں ملال‘‘ کون ہیں اور کیا کرتے ہیں؟ ان سوالوں کے جواب تو کتاب میں ہی ملیں گے۔
:کتاب کا تاثر
بچوں کے لیے لفظوں سے پہلے تصویریں کشش رکھتی ہیں۔ یہ کتاب بچوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ٹھہرتی ہے کہ اس میں ہر کہانی خوب صورت خاکوں سے مزین ہے۔ اس میں آپ کو بہت سا مزاح اور رنگ برنگے جملے ملیں گے۔یہ کہانیاں پڑھتے ہوئے بچے فرط جذبات میں ماموں ملال کے حق میں نعرے بازی بھی کرنے لگیں گے۔
:کتاب کا اسلوب
کسی بھی کتاب کا اسلوب اس کے مصنف کی وسعتِ ذہنی کو ظاہر کرتا ہے۔ مصنف ضیاء اللہ محسن نے کمال مہارت سے اپنے اسلوب کو سادگی کے ساتھ ذرخیزبنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں محاوروں سے مزین جملے، بچوں کے ہی نہیں بڑوں کے بھی ذہن کووسیع کرتے ہیں اور ہم آواز الفاظ پر ختم ہونے والے جملے شعری ذوق کو ہوا دیتے ہیں۔
:یہ کتاب سکھاتی ہے
کتاب کی ہر کہانی میں ایک سبق تو موجود ہے لیکن اس کے ساتھ ہی روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتیں بھی سیکھنے کو ملتی ہیں۔ جیسا کہ ایک کہانی ’’لوٹ کے ماموں گھر کو آئے‘‘میں مجموعی سبق کے علاوہ، پڑھنے والا قصائی کی اصل تعریف، اخبار میں اشتہار دینے کا طریقہ اور قربانی کے جانوروں کی تفصیل سے روشناس ہوتا ہے۔ ہر کہانی ایسی ہی عرق ریزی سے لکھی گئی ہے۔ جو بچوں کے ساتھ بڑی عمر والوں کے لیے بھی دلچسپ ہے۔
:میری پسندیدہ کہانی
گو کہ ہر کہانی ہی من کو بھائی لیکن ’’ماموں ملال لندن میں‘‘ میری پسندیدہ کہانی ٹھہری۔ اس میں ماموں ملال ایک دلچسپ صورت حال سے گزر کر حب وطنی کا ثبوت دیتے ہیں۔ اس کہانی کو پڑھتے ہوئے آپ بھی قہقہہ لگائے بنا نہیں رہیں گے۔
:آپ یہ کتاب کیوں پڑھیں
بچوں کی کتاب پر تبصرہ آپ بڑوں کے لیے ہے۔ کیونکہ یہ کہانیاں محض بچوں کے لیے ہی نہیں، آپ کے لیے بھی سود مند ہیں۔ آپ کسی بھی عمر میں ہوں ایسی کتابیں آپ کے اندر کی اچھائی کو اجاگر کرتی ہیں۔ بڑھتی عمر بچپن کی کئی خوبیاں اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔ آپ یہ کتاب پڑھیں تا کہ اپنے اندر وہی خوبیاں محسوس کرسکیں۔
آپ ’’ماموں ملال‘‘ کا مطالعہ کریں تا کہ اپنے ارد گرد ننھی کلیوں کا ذہن سمجھ سکیں۔ اپنا ادبی ذوق وسیع کرنے کے لیے آپ اس کتاب کو پڑھیں۔
مجھے یقین ہے آپ عمل کی نیت سے پڑھیں تو آپ کی کردار سازی یہ کتاب کرسکتی ہے۔
میں نے اس کتاب کو محض کہانیوں کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ بچوں کے لیے ایک بہترین تربیت گاہ کے طور پر پایا ہے۔ اور میں چاہتی ہوں اس تربیت گاہ سے ہر کوئی مستفید ہو۔ آخر میں خدائے لم یزل سے دعا ہے کہ اردو ادب میں بچوں کے لیے صدق دل سے کوشاں ہر لکھنے والے کے قلم میں 
برکت دے۔آمین۔
!ختم شد

Comments

Popular posts from this blog

|Drama Review by Qursam Fatima||Kahin Deep Jalay|| An overview of 11 episodes|

|Jo Tu Chahay| |An Overview of 17 episodes| |Review by Qursam Fatima|

|News Review by Quratulain| |Student Union|